السلام علیکم محترم بھائی،
میں اپنے ایک مسئلے کے بارے میں آپ سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں، میری بیوی کا 5 ماہ پہلے انتقال ہو گیا ہے، ان کی عمر 37 سال تھی، ہماری شادی کو 10 سال ہو چکے تھے اور ہمارے کوئی بچے نہیں تھے، شادی کے ایک سال بعد ہی ان کو ٹی بی ہو گئی تھی، اس کا علاج کرایا ،لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوئیں،پھر انہیں نئی بیماری موٹ (MOTT) تشخیص ہوئی، اس کا ڈیڑھ سال تک علاج ہوا، کچھ مہینے اچھی رہیں، پھر دوبارہ انفیکشن اور بیمار ہو جاتی تھیں،پھر انہیں دل کا مسئلہ بھی ہو گیا،دوا ہر ماہ چلتی رہتی تھی اور تین سال سے وہ ان ہیلر استعمال کر رہی تھیں، انتقال سے ایک ماہ پہلے وہ ہسپتال میں داخل بھی رہیں،پھر گھر آ گئیں، انتقال سے 18 دن پہلے ڈاکٹر کو روٹین کی طرح چیک اپ کے لیے لے گئے، ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا کہ ان کی آکسیجن چیک کرتے رہنا، اگر کم ہو تو سرکاری ہسپتال لے جانا، میں نے اسے اتنا ضروری نہیں سمجھا، کیونکہ میں مشین سے روزانہ چیک کر لیتا تھا، میری بیوی کو ان کی بہن کا فون آیا کہ کراچی آجاؤ، ماحول بدلنے سے تم ٹھیک ہو جاؤ گی، انتقال سے 12 دن پہلے وہ بہن کے پاس خانیوال چلی گئیں، پھر دوسری بہن کے لیے ملتان چلی گئیں، پھر کراچی اپنی تیسری بہن کے پاس چلی گئیں،وہاں ایک دن اور ایک رات رہیں، پھر اگلے دن صبح صادق ان کا انتقال ہو گیا،میرا ذہن آج تک الجھا ہوا ہے، بار بار سوچتا ہوں کہ میں نے آکسیجن چیک نہیں کی، 19 دسمبر کو ان کا انتقال ہوا تھا اور آج 21 مئی ہے، ابھی بھی یہی سوچ آتی ہے کہ کیا میری وجہ سے ان کی موت ہوئی؟ کیا میں ذمہ دار ہوں؟ کیونکہ ڈاکٹر نے مجھے آکسیجن چیک کرنے کو کہا تھا۔ میرا دماغ کنفیوژ ہے، اسلام کے حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں اور مجھے ان سوچوں سے بچنے کے لیے ذکر و اذکار بھی بتائیں۔
واضح ہوکہ بیماری سے شفا یابی کے لئے بقدر استطاعت کسی طبیب سے علاج ومعالجہ کرانا اسباب کے درجہ میں ہےجوکہ جائز ہے، لہذاصورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی استطاعت کے بقدر اپنی اہلیہ کا علاج ومعالجہ کرایا، اس کے بعد گھر میں بھی اس کا معائنہ کراتا رہا، اس کے باوجوداہلیہ کا انتقال ہوگیا تواس صورت میں سائل پر کوئی گناہ نہ ہوگا، بلاوجہ پریشانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے ،جبکہ سائل کو چاہیئے کہ پنج وقتہ نمازوں اور صبح و شام کی مسنون دعاؤں اور منزل کے پڑھنے کا اہتمام کرکے اپنی اہلیہ کو بھی ایصا ل ثواب کرتارہے ان شاءاللہ ،اللہ تعالی سوچوں سے نجات عطاء فرمائیں گے۔
کما فی الھندیۃ: اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به كالماء المزيل لضرر العطش والخبز المزيل لضرر الجوع وإلى مظنون كالفصد والحجامة وشرب المسهل وسائر أبواب الطب أعني معالجة البرودة بالحرارة ومعالجة الحرارة بالبرودة وهي الأسباب الظاهرة في الطب وإلى موهوم كالكي والرقية أما المقطوع به فليس تركه من التوكل بل تركه حرام عند خوف الموت وأما الموهوم فشرط التوكل تركه إذ به وصف رسول الله صلى الله عليه وسلم وآله - المتوكلين وأما الدرجة المتوسطة وهي المظنونة كالمداواة بالأسباب الظاهرة عند الأطباء ففعله ليس مناقضا للتوكل بخلاف الموهوم وتركه ليس محظورا بخلاف المقطوع به بل قد يكون أفضل من فعله في بعض الأحوال وفي حق بعض الأشخاص فهو على درجة بين الدرجتين كذا في الفصول العمادية في الفصل الرابع والثلاثين.الخ(کتاب الکراھیۃ،الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات،ج5،ص355،ط: ماجدیۃ)۔
وفی الموسوعۃ الفقیۃ الکویتیۃ:أما التطبيب مزاولة فالأصل فيه الإباحة. وقد يصير مندوبا إذا اقترن بنية التأسي بالنبي صلى الله عليه وسلم في توجيهه لتطبيب الناس، أو نوى نفع المسلمين لدخوله في مثل قوله تعالى: {ومن أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا} وحديث: من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه،إلا إذا تعين شخص لعدم وجود غيره أو تعاقد فتكون مزاولته واجبة،ويدل لذلك ما روى رجل من الأنصار قال: عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا به جرح، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادعوا له طبيب بني فلان. قال: فدعوه فجاء، فقالوا: يا رسول الله، ويغني الدواء شيئا؟ فقال: سبحان الله. وهل أنزل الله من داء في الأرض إلا جعل له شفاء،
وعن جابر رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرقى. فجاء آل عمرو بن حزم، فقالوا: يا رسول الله، إنه كانت عندنا رقية نرقي بها من العقرب، وإنك نهيت عن الرقى. قال: فعرضوها عليه. فقال: ما أرى بها بأسا، من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه،وقال صلى الله عليه وسلم: لا بأس بالرقى ما لم يكن فيها شرك،ولما ثبت من فعل النبي صلى الله عليه وسلم أنه تداوى، فقد روى الإمام أحمد في مسنده أن عروة كان يقول لعائشة رضي الله عنها: يا أمتاه، لا أعجب من فهمك. أقول: زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم بنت أبي بكر. ولا أعجب من علمك بالشعر وأيام الناس، أقول: ابنة أبي بكر، وكان أعلم الناس أو من أعلم الناس. ولكن أعجب من علمك بالطب، كيف هو؟ ومن أين هو؟ قال فضربت على منكبه وقالت: " أي عرية؟ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسقم عند آخر عمره، أو في آخر عمره، فكانت تقدم عليه وفود العرب من كل وجه، فتنعت له الأنعات، وكنت أعالجها، فمن ثم ". وفي رواية أن رسول الله كثرت أسقامه، فكان يقدم عليه أطباء العرب والعجم، فيصفون له فنعالجه الخ (المادۃ: تطبیب،ج12، ص136، صادر من: وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیۃ)۔