میرا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے، میں نے اپنے سالے کو تعلیم دلوائی اور اسے ایک ٹیکنیکل (مشینوں کی مرمّت) کام سکھایا۔ اب جبکہ وہ کسی حد تک کام سیکھ چکا ہے، اس کے مطالبے پر میں نے اسے اپنے کاروبار سے ہونے والی آمدنی میں 18.5 حصے کے لحاظ سے شریک کر لیا ہے، (اس کی رضامندی سے) اور یہ طے کیا ہے(اس کی رہائش میرے ساتھ میرے گھر پرہے)۔
(۱) کہ کسی بھی مرمّت کا کام چاہے میں کروں ، چاہے وہ کرے یا چاہے ہم دونوں مل کر کریں۔ اس کام کی تکمیل پر اس کام پر ہونے والے اخراجات نکالنے کے بعد بچ رہنے والی رقم میں سے %18.5 حصہ اس کا اور باقی میرا ہوگا۔ اس طرح سے اگر نقصان ہوتا ہے وہ اس انقصان % 18.5کے حساب سے شریک ہوگا۔ جب کہ باقی نقصان میں برداشت کروں گا۔
(۲) کسی کام کے سلسلے میں جو بھی پرزے درکار ہوں گے، وہ میرے پیسے کے خریدے جائیں گے (سالا غریب ہے اور پیسہ نہیں لگا سکتا صرف وسعت کے مطابق محنت کر سکتا ہے) اور بچ رہنے والے پرزے میری ملکیت ہوں گے۔
(۳) گھر کا اور دکان کا کرایہ ، بجلی کا بل ، بسوں کے کرائے ، ٹیلی فون کا خرچ ، گھر میں ہونے والے تمام اخراجات (کھانا پینا وغیرہ) سب میری ذمہ داری ہے ۔ یعنی وہ میرے گھر میں بالکل میرے گھر کے فرد کی طرح رہے، میری خوشی اس میں ہے، نیز ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے)
(۴) کا روبار کے سلسلے میں ہر طرح کا اختیار میرے پاس ہے، یعنی ہر کام کے بارے میں ہر چیز کا فیصلہ کرنے کا اختیار مثلاً ریٹ، شرائط وضوابط وغیرہ۔ اس کے علاوہ اگر میں چاہوں تو اسے کسی کام کے کرنے سے روک بھی سکتا ہوں۔
(۵)
نوٹ: ہم فیکٹری کی مشینیں ٹھیک کرتے ہیں۔ کیا اوپر تحریر کردہ تمام باتیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں ؟ براہِ کرم دین کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور معاہدہ میں اگر یہی شرائط ہوں جن کا ذکر سوال میں ہے تو اس صورت میں یہ معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے، اور اس پر سالے اور بہنوئی کا باہم تقسیمِ نفع بھی جائز ہے۔
ففي خلاصة الفتاوى: اذا اقعد الصانع احد في دكانه يطرح عليه العمل بالنصف جاز استحساناً للتعامل اذا اشترك في عمل يتقبلانه من الناس جميعا أو شتى ويعمل كل واحد منها برأيه أو فى عملين مختلفين يعمل أحدهما القصارة والآخر الخياطة جاز استحسانا لأنه توكيل بقبول العمل فاذا تقبلا كان عليهما، وإذا عمل أحدهما أو عملا استحقا الأجر وكان الحامل معينا للآخر وهذا جائز ... ولو شرط الربح في هذا. لأحدهما أكثر مما شرط للآخر جاز عندنا لان العمل متفاوة قد يكون أحدهما احذق اھ (۴/۲۹۸)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0