کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام کہ ایک علاقہ والوں نے مجاہدین کو پناہ اور امن دیا ہوا ہے اور ان مجاہدین کے کھانے پینے کا انتظام بھی یہ علاقے والے کرتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ دریافت کرنا تھا کہ مذکورہ علاقہ (چوروں کے علاقہ سے موسوم ہے) اور حقیقت میں یہ لوگ چوری بھی کرتے ہیں تو کیا مسروقہ مال سے مجاہدین کا تعاون کرنا اور ان کے چندے میں جمع کرانا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ نوٹ : یہ مسئلہ وہ مجاہدین خود پوچھنا چاہتے ہیں جو مذکورہ علاقہ والوں کے امن میں ہیں کہ ہم مجاہدین کے لئے ایسے چندے کا استعمال درست اورجائز ہے یا نہیں ؟
اگرچہ اس میں تو شبہ نہیں کہ مالِ مسروقہ کے اصل حقدار وہی لوگ ہیں جن سے یہ سرقہ ہوا ہے، ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ اصل مالکان تک مسروقہ مال پہنچائیں اور اپنے اصل جائز اور حلال مال سے مجاہدین کی مدد و نصرت کریں ورنہ نیکی بر باد و گناہ لازم کا مصداق بنیں گے۔ مگر بلاوجہ کسی پر بد گمانی کرنا اور اسی بناء پر پورے علاقے والوں کو چور اور ان کے اموال کو حرام قرار دینا اس سے بھی بہر حال اجتناب ضروری ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين: لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة،ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (6/ 385)۔