کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل ان مسئلوں کے بارے میں :
1۔ میں نے دوسری شادی کی جس پر غصہ اور طیش میں آکر میری پہلی بیوی نے اپنے بھائی کے ساتھ ملکر میرا مبائل ہیک کیا، پھر میرے سالے نے میرے سارے پرسنل میسج لوگوں میں پھیلانا شروع کردیے، حتی کہ میری زوجۂ ثانیہ کے ساتھ جو پرسنل میسج ہوئے وہ بھی پورے خاندان اور دیگر لوگوں کو بھیجنا شروع کردیے، جوکہ میرے اور میری زوجۂ ثانیہ کیلئے شرم و بے حیائی ثابت ہوئی ، قرآن و حدیث کی روشنی میں فرمائیں کہ میرے سالے لوگوں کا یہ فعل کیسا ہے ؟
2۔ اس کے بعد میرا سالا زوجۂ ثانیہ کے پوری فیملی کو دھمکیاں اور بے ہودہ گالیاں دینے لگااور کہا کہ اپنی بیٹی کو طلاق دلواؤ وگرنہ میں تم لوگوں کو جان سے ماروں گا اور بدنام کروں گا، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
3) اسی طرح میرے سالے نے میری زوجۂ ثانیہ کے سابقہ شوہر کے ساتھ رابطے شروع کردیے اور اس کو غلط گائیڈ کرتا رہا، جس کی وجہ سے اس نے میرے اور میری زوجۂ ثانیہ کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا، اور ہمارے خلاف F.I.R بھی ہوئی اور ہمیں تھانے میں پورے 24 گھنٹے لوک اپ میں رکھا گیا، بعد ازاں ہم نے ضمانت کروادی، اور ابھی تک میرا سالا اسی سابقہ شوہر کے ساتھ رابطہ میں ہے۔ کیا شریعت میں ان کو یہ اجازت دیتی ہے کہ مجھ پر اور میرے سسرال والوں پر پریشر ڈال کر طلاق کا مطالبہ کریں ؟ برائے کرم قرآن وحدیث کے روشنی میں و ضاحت فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کے شریعتِ مطہرہ نے مرد حضرات کو دوسری شادی کی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ دونوں بیویوں کے درمیان نان و نفقہ سکنی وغیرہ میں عدل ومساوات کے توازن برقرار رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، تاہم اس کے لئے پہلی بیوی کو اعتماد میں لے کر اس سے اجازت لینا ضروری ہے تاکہ بعد میں پریشانیاں پیدا نہ ہو، لہذا سائل کو بھی چاہیئے تھا کہ دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں کو اعتماد میں لیتے تاکہ اسے موجودہ مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ تا ہم جب انہوں نے دوسری شادی کر لی جس کی اجازت شریعت نے بھی انہیں دی ہے تو اس پر پہلی بیوی اور اس کے بھائی کا سوال میں مذکور طرز ِعمل قطعا ً غلط اور غیر ِِشرعی ہونے کے علاوہ غیرِِ اخلاقی بھی ہے کہ میاں بیوی کے گفتگو دوسرے لوگوں کے سامنے پھیلا کر ان کی تذلیل کی جائے یا بیوی کے گھر والوں کو دھمکیاں دے کر اسے طلاق لینے پر مجبور کر لیا جائے، لہذا اسے اپنے اس غیر شرعی طرزِ عمل سے باز ا آکر جلد از جلد معافی تلافی کر کے معاملہ سے ایک طرف ہونا چا ہیئے ورنہ بروزِ قیامت اللہ کے سامنے جواب دہی کے لئے تیار رہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی تنزیلہ العزیز: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا، ( سورۃ: النساء، الآیۃ: 3 )-
وقال اللہ تعالیٰ ایضاً: يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم "ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضا أيحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتا فكرهتموه" واتقوا الله إن الله تواب رحيم، ( سورۃ: الحجرات، الآیۃ: 12 )-
وفی التفسیر المظھری: وَلا تَجَسَّسُوا؛ الجس فى اللغة المس باليد والتجسس تفحص الاخبار باعتبار ما فيه من معنى الطلب كالتلمس والمراد هاهنا لا تبحثوا عن عيوب الناس ولا تتبعوا عوراتهم حتى لا يظهر عليكم ما ستره الله منها عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إياكم والظن فان الظن أكذب الحديث ولا تجسسوا ولا تنافروا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا ولا يخطب الرجل على خطبة أخيه حتى ينكح او ينزل رواه ملك واحمد وابن ماجة وابو داود والترمذی وصححه، وعن إبن عمرؓ أنّ النبی ﷺ قال: يا معشر من أمن بلسانه ولم يفض الايمان الى قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فانه من تتبع عورات المسلمين يتبع الله عوراته فيفضحه ولو فى جوف رحله رواه الترمذی وحسّنه،( إلی قولہ ) عن ابى سعيد وجابر قالا قال رسول الله ﷺ الغيبة أشد من الزنا قالوا يا رسول الله وكيف الغيبة أشد من الزنا قال ان الرجل يزنى فيتوب الله فيغفر له وان صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفر له صاحبه، الخ ( ج 9، ص 54-56، ط: مکتبۃ الرشیدیۃ )-
وفی سنن إبن ماجۃ: حدثنا عبد الله بن عمر، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يطوف بالكعبة، ويقول: "ما أطيبك وأطيب ريحك، ما أعظمك وأعظم حرمتك ! والذی نفس محمد بيده، لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك، ماله ودمه، وأن نظن به إلا خيرا"، اھ ( أبواب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، المرقم: 3932، ص 781، ط: البشری )-
وفی الصحیح للبخاریؒ: عن عبد الله بن عمرو رضی الله عنهما، عن النبیّ صلى الله عليه و سلم قال:"المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده، و المهاجر من هجر ما نھی الله عنه" الخ ( كتاب الإيمان، باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده، ج 1، ص 130، ط: البشری )-
و فی المرقاۃ: تحت قولہ ( المسلم ) أی الكامل، لما تقدم من معنى الإسلام، أو المسلم الحقيقی المتصف بمعناه اللغوی ( من سلم المسلمون ) أی و المسلمات، إمّا تغليبا و إمّا تبعا، و يلحق بهم أهل الذمّة حكما، ( من لسانه) أی بالشتم، و اللعن، و الغيبة، و البهتان، و النميمة، و السعی إلى السلطان، و غير ذلك، ( و يده ) بالضرب، و القتل، و الهدم، و الدفع، و الكتابة بالباطل، و نحوها، الخ ( كتاب الإيمان، الفصل الاوّل، ج 1، ص 143، ط: المکتبۃ الحقانیۃ )-