میں اپنی بیٹی کا نام تبدیل کرنا چاہتا ہوں ، کیونکہ بیٹی کا مزاج غصہ، رونے والا اور ضدی ہے ، بیٹی کانام انبیا فاطمہ ہے ، بیٹی کی تاریخ پیدائش 10 فروری 2020 ظہر کا وقت تھا ، مہربانی کرکے مجھے قرآن سے نام نکال کر دیں ۔
سائل کی بیٹی کا مزاجاً غصہ والی ہونا یا ضدی ہونے کا مذکور نام سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن اس کے باوجود اگر اپنی بیٹی کا نام تبدیل کرنا چاہتا ہو تو اس نام کا پہلا جزء ” انبیاء “کا لفظ ہٹاکر اپنی بیٹی کا نام صرف” فاطمہ “رکھ لے تو یہ بھی مناسب ہے ۔
کما فی صحیح مسلم: عن ابن عمر؛أن ابنة لعمر كانت يقال لها عاصية. فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة. (باب: استحباب تغيير الاسم القبيح إلى حسن، وتغيير اسم برة إلى زينب وجويرية ونحوهما، ج:3، ص: 1687، ناشر: دار احیاء التراث العربی )-
وفی سنن أبی داؤد : عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم و أسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم ( 2 / 328 )-
و فی شرح مسلم علی النووی: [2142] في الحديثين الآخرين أن النبي صلى الله عليه وسلم غير اسم برة بنت أبي سلمة وبرة بنت جحش فسماهما زينب وزينب وقال لاتزكوا أنفسكم الله أعلم بأهل البر منكم معنى هذه الأحاديث تغيير الاسم القبيح أو المكروه إلى حسن وقد ثبت أحاديث بتغييره اھ ((باب استحباب تغير الاسم القبيح إلى حسن، ج: 14، ص: 120، ناشر: دار احیاء التراث العربی )-