السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ !
بعد از سلام عرض یہ ہے کہ مجھے فتویٰ چاہیے تھا کہ اگر کسی کی مدد کرنا چاہیں، اور اس کے لیے اپنے پیسے بینک میں رکھو اکر ، اس پر جو سود آئے ، اس پیسے سے وہ مدد کی جائے، یعنی مہینہ کے جو منافع کے پیسے ہیں، وہ مدد کے لیے کسی کا خرچہ باندھ دیں، تو کیا یہ جائز ہو گا؟ براہ مہربانی اس پر فتویٰ دے دیجیے۔
سودی بینک میں رقم رکھوا کر حاصل ہونے والے سود سے کسی شخص کی مدد کر ناہرگز جائز نہیں ، اس صورت میں بھی سودی لین دین کا گناہ ہو گا، اس لیے اس سے احتر از لازم ہے، ہاں ! یہی معاملہ اگر کسی غیر سودی بینک کے ساتھ کیا جائے، تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔
لما في القرآن الكريم: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (2/ 855)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1