گناہ و ناجائز

ایکس نیس ایپ پر سونے کی تجارت کا حکم

فتوی نمبر :
83237
| تاریخ :
2025-06-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایکس نیس ایپ پر سونے کی تجارت کا حکم

کیا ٹریڈنگ حلال ہے؟ میں Exness ایپ پر گولڈ (سونے) کی ٹریڈنگ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ٹریڈنگ کا زیادہ علم نہیں ہے، لیکن میں اندازے سے کام لیتا ہوں کہ دن کے آغاز میں قیمت اوپر جائے گی یا نیچے۔ میں لیوریج (ادھار پر خرید و فروخت) کا استعمال بھی کرتا ہوں، اور ساتھ ہی یہ ایپ ہر ٹریڈ اور ٹرانزیکشن پر کچھ فیس بھی لیتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ ایپ کی مکمل تفصیلات سائل نے ذکر نہیں کی ہے کہ اس کے ذریعہ تجارت کا طریقہ کار کیا ہے، تاکہ اسی کے مطابق شرعی حکم سے آگاہ کیا جاتا، اس لیے اگر اس کے ذریعہ کام کی نوعیت اور تفصیل سائل دوبارہ ارسال کردے تو غور وفکر کے بعد اس کے شرعی حکم سے آگاہ کردیا جائے گا ۔
البتہ عام طور پر آن لائن گولڈ ٹریڈنگ سود اور قمار ہی کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہو تی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اس لیے اس کاروبار میں چیز پر قبضہ نہیں کیا جاتا،جبکہ دونوں طرف سے گولڈ کے لین دین میں بیچنے اور خریدنے والوں میں سے ہر ایک کامجلسِ عقد میں قبضہ شرط ہے ، لہذا عام حالات میں یہ کاروبار قطعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری : عن أبی المنهال يقول: «سألت البراء بن عازب وزيد بن أرقم عن الصرف، فقالا: كنا تاجرين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصرف، فقال: إن كان يدا بيد فلا بأس، وإن كان نساء فلا يصلح. ( باب التجارۃ فی البر، ج: 3،ص: 55، ناشر: السلطانیۃ )-
وفي سنن ابن ماجه: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه» ، قال أبو عوانة في حديثه: قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثل الطعام اھ (2/ 749)
و فی الھندیۃ : (وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير وتفسير الافتراق هو أن يفترق العاقدان بأبدانهما عن مجلسهما بأن يأخذ هذا في جهة وهذا في جهة أو يذهب أحدهما ويبقى الآخر حتى لو كانا في مجلسهما لم يبرحا عنه لم يكونا متفرقين، وإن طال مجلسهما إلا بعد الافتراق بأبدانهما وكذا إذا ناما في المجلس أو أغمي عليهما وكذا إذا قاما عن مجلسهما معا وذهبا في جهة واحدة وطريق واحد ومشيا ميلا أو أكثر ولم يفارق أحدهما صاحبه فليسا بمتفرقين كذا في البدائع اھ ( کتاب الصرف، ‌‌[الباب الأول في تعريف الصرف وركنه وحكمه وشرائطه، ج: 3، ص: 217، ناشر: دار الفکر )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83237کی تصدیق کریں
0     526
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات