گناہ و ناجائز

شناختی کارڈ وغیرہ میں غلط معلومات پر مشتمل حلف نامہ پر دستخظ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
83354
| تاریخ :
2025-06-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شناختی کارڈ وغیرہ میں غلط معلومات پر مشتمل حلف نامہ پر دستخظ کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب !میرا سوال ہے کہ جو فارم کے آخر میں لکھا ہوتا ہے اکثر نادرا یا پاسپورٹ کے فارم میں حلفیہ اقرار نامہ بعض لوگوں نے اس میں اپنی عمر کم کی ہوتی ہے ،کبھی کسی نے جگہ پیدائش تبدیل کی ہوتی ہے، اس طرح اس میں دستخط کرنے کا کیا حکم ہے ؟نیز اس سے کسی کا نقصان نہیں ہوتا اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،لیکن بعض اوقات کسی ملک کے ویزے کے لئے عمر بڑی کرنی ہوتی ہے اور کبھی جائے پیدائش کی وجہ سے ویزہ ایشو نہیں ہوتا اس کے علاوہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ،یاد رہے جس نے اس طرح پہلے کبھی لکھ لیا، اب جب بھی وہ رینیو کرتا ہے تو اس کو اس حلفیہ اقرار نامہ پر دستخط کرنا پڑتا ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شناختی کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ میں مذکور نوعیت کی تبدیلی اور پھر حلفیہ اقرار نامہ پر دستخط، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور گناہ ہے ،جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد : عن عبدِ الله، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "‌إيَّاكم ‌والكَذِبَ، فإنَّ الكَذبَ يهدي إلى الفُجُورِ، وإنَّ الفجورَ يهدي إلى النار،ص : 1683،رقم الحدیث :3989، ط : بشری۔)
و فی سنن الترمذی : قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لا يَحِلُّ الكَذِبُ إلَّا في ثَلَاثٍ: يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرأَتَهُ لِيُرْضِيهَا، والكَذِبُ في الحَرْبِ، والكَذِبُ لِيُصْلحَ بينَ النَّاسِ". وقال محمودٌ في حَدِيثِهِ: "‌لا ‌يَصْلُحُ ‌الكَذِبُ ‌إلَّا ‌في ‌ثَلاثٍ، رقم الحدیث : 2051۔)
و فی الدر : الكذب ‌مباح لاحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه، والمراد التعريض لان عين الكذب حرام، ج : 6،ص : 427،ط: سعید ۔)
و فی العرف الشذی : ‌لا ‌يجوز ‌الكذب ‌إلا ‌في مستثنيات، وهي أيضاً ليست بكذبات بل تورية،ج : 3 ،ص : 231 ،الرقم : 1675 ۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83354کی تصدیق کریں
0     32
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات