گناہ و ناجائز

خواتین کا مزارات پر حاضر ہونا

فتوی نمبر :
83382
| تاریخ :
2025-06-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خواتین کا مزارات پر حاضر ہونا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب،امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں امریکہ میں مقیم ہوں اور اپنی والدہ کے بعض مذہبی معاملات میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کی بہتر طور پر راہنمائی کر سکوں اور خود بھی شرعی حدود میں رہتے ہوئے عمل کر سکوں،میری والدہ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جانا چاہتی ہیں، ان کا ارادہ "جنتی دروازے" سے گزرنے اور عرس کے موقع پر شرکت کرنے کا بھی ہے، میری چند گزارشات ہیں جن پر براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
1. خواتین کا اولیاء کرام کے مزارات پر جانا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟
2. اگر والدہ محرم کے ساتھ صرف فاتحہ کے لیے جانا چاہیں تو کیا یہ جائز ہے؟
3. اگر میں بطور بیٹا ان کو مزار پر جانے سے منع کر دوں تو کیا میں گناہگار ہوں گا؟
4. مزار پر جا کر منت مانگنے کا کیا حکم ہے؟
5. میں نے اپنی والدہ سے گزارش کی کہ وہ عمرہ کی نیت کریں اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے روضۂ اقدس پر حاضری کی نیت کریں، میں ان شاء اللہ ساتھ لے جانے کی کوشش کروں گا مگر وہ اس پر ناراض ہو گئیں، ایسی صورت میں میرے لیے کیا شرعی طرزِ عمل ہونا چاہیے؟ آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح اور مدلل جواب مرحمت فرمائیں تاکہ میں اپنی والدہ کو ادب و احترام کے ساتھ سمجھا سکوں اور خود بھی شرعی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکوں۔ جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت میں عبادات، دعاؤں اور تقربِ الٰہی کے تمام طریقے قرآن و سنت کے تابع ہیں، اور ایسے امور جن میں شرک بدعت یا فتنہ کا اندیشہ ہو، ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ فقہاء احناف کے نزدیک عورتوں کا مزارات پر جانا مکروہِ تحریمی ہے، خصوصاً ایسے مزارات جہاں اختلاط ،غیر شرعی رسومات کا ارتکاب ہوتا ہو، موجودہ زمانے میں اکثر مزارات ان مفاسد سے خالی نہیں، اس لیے خواتین کے لیے مزارات پر جانے کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں بنتی، لہذا بیٹا اگر والدہ کو کسی غیر شرعی کام سے روک رہا ہو تو وہ گنہگار نہیں، بلکہ مستحقِ اجر و ثواب ہے، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ وہ والدہ کوحکمت وصیرت کے ساتھ یہ بات سمجھائے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ سننے والا ہے، اس کی رحمت کسی مخصوص دروازے کی محتاج نہیں، گھروں میں رہ کر بھی اولیاء اللہ کے لیے ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے، جو شریعت کے بیان کردہ طریقے کے بھی مطابق ہے، لہٰذا ایک مسلمان کو اسی کام کا اہتمام کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیہ: وقال الخیر الرملی إن کان ذلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتہن فلا تجوز وعلیہ حمل حدیث لعن اللہ زائرات القبور وإن کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین ، فلا بأس إذاکن عجائز ویکرہ إذا کن شواب کحضور الجماعۃ فی المساجد۔( شامی ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ ، مطلب في زیارۃ القبور، ج:2، ص:222)۔
وفی الطحطاوی: بل تحرم فی ہذالزمان الخ۔ ( طحطاوی علی المراقی ،کتاب الصلاۃ، باب أحکام الجنائز، فصل فی زیارۃ القبور، ج:1، ص32، ط: قدیم)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83382کی تصدیق کریں
0     249
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات