غیر مسلم لوگ اپنے دیوی دیوتا کے نام پر جانور کی بلی چڑھاتے ہیں، جس میں وہ ایک وار میں سر جدا کر دیتے ہیں، ایسے جانور کی کٹائی کے لئے اگر کسی مسلم قصائی کو بطورِ اجرت بلایا جائے ،اور مسلم قصاب کی خدمت بھی انجام دیدے ،تو کیا مسلم قصاب کے لئے اس کی اجرت حلال ہو گی یا نہیں؟ براے مہربانی شرعی راہ نمائی فرمائیں۔
غیر مسلموں کے دیوتا یا دیوی کے نام پر قربان کیے جانے والے جانور کو ذبح کرنے کے لئے اگر کسی مسلمان قصاب کو اجرت پر بلالیں ،اور مسلمان قصاب ان جانوروں کو ذبح کر کے اجرت وصول کرلے ،تو قصاب کے لئے وہ اجرت اپنے استعمال میں لانا اگرچہ جائز ہو گا، لیکن کسی جانور کے جسم سے سر کو ایک وار میں مکمل طور پر علیحدہ کرنا، اور کسی مسلمان کا دیوی دیوتاؤں کے نام پر غیر مسلموں کے لئے جانور ذبح کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: مسلم ذبح شاة المجوسي لبيت نارهم او الكافر لآلهتهم تؤكل، لانه سمى الله تعالى ويكره للمسلم، كذا في التتارخانية ناقلا عن جامع الفتاوى اھ ۔(285/5)۔
و في الفتاوى الهندية: ومن المستحب قطع الأوداج كلها ويكره قطع البعض دون البعض ويستحب الاكتفاء بقطع الأوداج ولا يباين الرأس ولو فعل يكره اھ (5/ 287)۔