کیا فرماتے ہیں علماء ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تاج کمپنی کی کتابت والا ایک قرآن کریم چھاپنا چاہتے ہیں ،جس نے اپنا کاروبار بند کردیا ہے، ہم اس قرآن کی فروخت پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی نہیں اٹھانا چاہتے، بلکہ ان شاء اللہ العزیز اصل لاگت سے چند روپے فی نسخہ اپنی طرف سے ڈال کر کم ہدیہ میں فروخت کریں گے، گو اس طرح کے قرآن پر حقوق طباعت محفوظ ہیں، مگر بہت سے تاجران کے قرآن کا چربہ (فلم) بنوا کر چھاپ چکے ہیں، اور دنیاوی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں،کیا ہمارے اس عمل میں گناہ ہے ؟اور ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہونگے ؟
چونکہ اس کمپنی کے حقوق طباعت محفوظ ہیں، اور مالکان کی طرف سے ان کی ممانعت کے اعلانات بھی بار بار ہو رہے ہیں، اس لئے بغیر اجازت اس کی اشاعت سے احتراز لازم ہے ۔
کما في سنن أبي داود: أسمر بن مضرس، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته، فقال: «من سبق إلى ماء لم يسبقه إليه مسلم فهو له» اھ (3/ 177)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وبناء عليه يعتبر إعادة طبع الكتاب أو تصويره اعتداء على حق المؤلف، أي أنه معصية موجبة للإثم شرعاً، وسرقة موجبة لضمان حق المؤلف في مصادرة النسخ المطبوعة عدواناً وظلماً، وتعويضه عن الضرر الأدبي الذي أصابه. وذلك سواء كتب على النسخ المطبوعة عبارة: (حق التأليف محفوظ للمؤلف) أم لا، لأن العرف والقانون السائد اعتبر هذا الحق من جملة الحقوق الشخصية اھ (4/ 2862)۔