السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے یوٹیوب چینل پر میوزک لگا سکتے ہیں؟ کیا ہر قسم کا میوزک لگانا حرام ہے؟ وہ میوزک ایسا ہے کہ جس سے کوئی نفسانی خواہش جاگتی نہیں، یا ناچ گانے جیسی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، جیسے ہلکی سی دھن ہو، رات کو سوتے ہوئے ہلکا ہلکا لگالیتے ہیں، اس میں باقاعدہ میوزک کی لائنز وغیرہ نہیں ہوتی، صرف دھن ہوتی ہے ،مہربانی فرما کر بتائیں کہ کیا یہ بھی گناہ میں شمار ہوگا ؟کیا یہ بھی حرام ہے؟اور اگر چاہیں تو یوٹیوب پر جا کر میرا چینل دیکھ بھی سکتے ہیں، چینل کا نام (۔۔۔۔) ہے، کوئی بے حیائی اور لغویات نہیں ہے اس میں، صرف انگریز لوگ رات کو لگاکے سوتے ہیں، براہِ کرم اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کے میوزک کی حرمت کے لئے اس میوزک کا نفسانی خواہش جاگنے کا سبب ہونا ضروری نہیں، بلکہ ہر وہ دھن اور گانے بجانے کے آلات سے حاصل کردہ آواز جس پر اس فن کے ماہرین کے ہاں میوزک کا اطلاق کیا جا سکے، شرعا ناجائز اور حرام ہے، لہذا سائل کے لیے یوٹیوب چینل پر میوزک لگانا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ پانی کی لہروں یا پرندوں کی چہچہانے جیسے آوازیں لگائی جا سکتی ہیں، اور یہ شرعاً بھی درست ہوگا۔
و فی الفتاوٰی التاتارخانیۃ : و فی فتاوی اھل سمرقند : ( استماع ) صوت الملاھی کالضرب بالقصیب و غیر ذالک حرام من الملاھی ، و قد قال علیہ السلام الملاھی معصیۃ و الجلوس علیھا فسق و التلذذ بھا من الکفر ، و ھذا خرج علی وجہ التشدید لعظم الذنب ، و قالوا : الا ان یسمع بغتۃ فیکون معذوراً ، و الواجب علی کل احد ان یجتھد ما امکنہ حتی لا یسمع الخ( الفصل الثامن عشر فی الغناء و اللھو ،ج 18، ص189، ط: رشیدیۃ)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : قال رحمہ اللہ تعالی السماع و القول و الرقص الذی یفعلہ المتصوفۃ فی زماننا حرام لا یجوز القصد الیہ و الجلوس علیہ و ھو و الغناء و المزامیر سواء الخ ( باب فی الغناء و اللھو ، ج 5 ، ص 352 ، ط : ماجدیہ )۔