کیا فرماتے ہیں علماء کرام ان مسائل کے بارے میں کہ
(1) :میرا تعلق بلوچستان سے ہے، کراچی میں بلدیہ ٹاؤن میں رہتا ہوں مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اور میرے بڑے بھائی نےاکٹھے دو مختلف فیکٹریوں میں کام شروع کیا ، بلوچستان میں ایک زمین بک رہی تھی، اور ہمارے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ زمین خریدتے ، چنانچہ بڑے بھائی نے اپنی فیکٹری سے قرضہ لیا ، اور اس میں کچھ رقم میں نے بھی شامل کر دی ، یوں بڑے بھائی نے وہ زمین خرید لی، چونکہ وہ زمین کاشت والی تھی، اس لئے اس کا بیج وغیرہ بھی میں نے دیا ، جب بڑے بھائی نے زمین خرید لی ، تو چونکہ جو قرض انہوں نے لیا تھا ، ، ا س کی کٹوتی ان کی تنخواہ سے لینا شروع کی ، اور باقی تمام خرچہ اس دوران میں نے سنبھالا ، چھ سال قبل ان کی فیکٹری بند ہو گئی ، تو فیکٹری نے ان کو تین لاکھ روپے دیے ،جو انہوں نے موجودہ گھر کی تعمیر پر خرچ کر دیے ، اور خود وہ چھ سال سے بے روز گار ہیں ،ان کو اور ان کے تمام اہلِ خانہ کو میں ہی سنبھال رہا ہوں ، بلوچستان والی زمین بڑے بھائی نے اب تقریباً دو لاکھ میں فروخت کر دی ہے،تو اب سوال یہ ہے کہ اس دو لاکھ میں میرا حصہ ہے یا نہیں؟ جب کہ بوقت خریداری کچھ رقم بھی میں نے ملائی، زمین کا بیج وغیرہ بھی دیا ، چھ سال سے بھائی کا خرچہ بھی برداشت کیا ، جب کہ بڑے بھائی میرے حصہ سے انکاری ہیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں، وہ گھر اصلاً والد صاحب کی ملکیت ہے، اور والد صاحب حیات ہیں،چونکہ جو رقم تین لاکھ روپے بھائی کو ملے تھے، وہ انہوں نے گھر کی تعمیر پر خرچ کیے،اس لیے وہ کہہ رہے ہیں، اس گھر کا نصف حصہ بلا شرکت غیر میرا ہے،اور گھر کے پیچھے بھی ایک گھر ہے، جو کرایہ پر ہے اس کے نصف کے بھی وہ دعویدار ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ دعوی درست ہے یا نہیں ؟ براہ کرم جو بھی حکم ہو بیان کر دیا جاوے ۔
نوٹ : صورت اول میں ہمارا باہمی کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ بینوا توجروا
۱: واضح ہو کہ سائل نے بغیر کسی معاہدے کے باہمی امداد و تعاون کے تحت جو کچھ اپنے بڑے بھائی کی مدد کی اور اس کا نان نفقہ برداشت کیا، تو یہ سائل کی طرف سے تبرّع اور احسان تھا ، جس پر ان شاء اللہ تعالیٰ اس کو ثواب ملے گا، لیکن چونکہ زمین کی خریداری کے وقت کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا تھا، اور زمین بھی بڑے بھائی نے قرض لے کر خریدی تھی، اس لئے وہ تنہا اسی کی ملک ہے، سائل کا اس میں کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں۔
۲: اسی طرح سائل کے بڑے بھائی نے جو رقم بغیر کسی قسم کے معاہدے کے والد صاحب کے مکان کی مرمّت وغیرہ پر خرچ کی ہے تو چونکہ وہ بھی باہمی امداد دو تعاون کے تحت ہی کی تھی ، اس لئے اب اس کا نصف حصے کا مذکور دعوی شرعاً درست نہیں، اور چونکہ سائل کے والد صاحب ابھی تک زندہ ہیں، اس لئے تمام جائیداد تنہا والد موصوف کی ملک ہے، اس لئے سائل کے بڑے بھائی کو اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر والد موصوف بیٹے کی مذکور رقم اور تعاون کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اسی طرح بڑا بھائی مذکور زمین کی خریداری وغیرہ میں چھوٹے بھائی کے تعاون کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے اپنے حصہ میں سے انہیں بھی کچھ دیدیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، اور والد موصوف اور اسی طرح بڑے بھائی کو بھی ایسے ہی کرنا چاہیئے ۔
في الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له اھ (6/ 747)۔
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) في دار مشتركة بين زيد وورثة أخيه فاحتاجت للعمارة فعمرها زيد بدون إذن ورثة أخيه ولا أمر القاضي ويريد الرجوع على الورثة المرقومين فهل ليس له ذلك ويكون متطوعا؟
(الجواب) : نعم الدار المشتركة إذا استرمت فأنفق أحدهما في مرمتها بغير أمر صاحبه وبغير أمر القاضي فهو متطوع اھ (2/ 278)۔