گناہ و ناجائز

والد کا اپنے بیٹوں سےاپنے حق کی وصولی کے لئے چچا سے نہ لڑنے پر ناراض ہونا

فتوی نمبر :
83886
| تاریخ :
2025-07-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد کا اپنے بیٹوں سےاپنے حق کی وصولی کے لئے چچا سے نہ لڑنے پر ناراض ہونا

اَلاِسْتِفتَاء ُ
ہم تین بھائی ہیں اور ہم اپنے والد صاحب کے ساتھ رہتے ہیں ، ہماراگھر کراچی میں واقع ہے ، یہ گھر دو حصوں پر مشتمل ہے ، آدھا حصہ ہمارے والد صاحب کا ہے اور آدھا حصہ ہمارے چچا کا جو ہمارے والد کے چھوٹے بھائی ہیں، کچھ سال پہلے ہمارے دادا کی طرف سے ایک زمین ہمارے والد اور ان کےتمام بھائیوں کو وراثت میں ملی تھی ،جو ہمارے گھر سے دور واقع ہے، اس زمین پر ہمارے چچا نے اکیلے قبضہ کر لیا ، حالانکہ وہ سب بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھی، اس کے جواب میں ہمارے والد صاحب نے اس گھر کے اس حصے پر قبضہ کر لیا جو چچاکا ہے ، کیونکہ وہ حصہ ہمارے گھر کے ساتھ جڑا ہواتھا ، ان کا مؤقف یہ تھا کہ جب تک چچا وہ وراثتی زمین واپس نہیں کر تے ، وہ بھی یہ حصہ نہیں چھوڑیں گے، اب دو سال ہوچکے ہیں ،ہمارے والد اس وقت دبئی میں ہیں ، اور چچا ہمیں باربار دھمکیا ں دے رہے ہیں کہ ہم ان کے حصے سے نکل جائیں کیونکہ ان کے مطابق ہمارے والد نے ان کاحصہ غیر قانونی طور پر روک رکھا ہے، ہم نے یہ بات والد کو بتائی تو انہوں نے ہمیں کہا کہ یا تو اپنے چچا سے لڑو اور ان پر سختی کرو،یا ان سےمار کھاؤ ، بلکہ ان کے الفاظ کچھ اس حد تک سخت تھے کہ اگر ضرورت پڑے تو جان لینے یا اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرو،بس میری عزت اور غیرت بچنی چاہیئے ، ہم تین بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور طے کیا کہ ہم معاملے کو نرمی ، حکمت ، اور خاندانی عزت وغیرت کے دائرے میں رکھتے ہوئے حل کریں گے ،ہم نے سختی یا جھگڑے کےبجائے صبر اور برداشت کا راستہ اختیار کیا تاکہ خاندان میں مزید بگاڑ نہ ہو، ہم نے چچا سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی بھی کوشش کی ، کئی بار مذکرات کیے ، نرمی سے بات کی ، لیکن وہ سننے پر آمادہ نہ ہوئے ،بالآخر وہ طاقت کے زور پر اپنا حصہ واپس لےگئے، ہمارے والد کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم نے چچاسے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا ، تووہ شدید ناراض ہوگئے ، انہوں نے ہم سے بات چیت بند کردی اور کہا کہ ” تم نے میری عزت اور غیرت خاک میں ملادی ، اور جب تک مجھے کوئی دینی “ شخصیت یا عالم یہ نہ بتائے کہ میں غلط ہوں ، میں تمہیں معاف نہیں کروں گا ،ہم ہر گز اپنےوالد کی نافر مانی نہیں کرنا چاہتے معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا چاہتے تھے
سوالات: 1: اس صورت حال میں شریعت کی روشنی میں کس کا مؤقف درست تھا؟ 2: کیا ہماارا چچاسے لڑنے سے انکار کرنا والد کی نا فرمانی شمار ہوتاہے؟ 3: ہمارے لئے شرعی طور پر کیا رویہ اختیار کرنا چاہیئے تھا؟ 4: جھگڑےکو اسلام کےمطابق حل کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں گاؤں کی مذکور زمین اگر سائل کے دادا مرحوم کا ترکہ ہو، اس میں سائل کے والد سمیت دادا مرحوم کے تمام موجود ورثاء بقدرِ حصصِ شرعیہ شریک ہوں گے ، لہذا سائل کے چچا کا تنہا اس زمین پر قابض ہوکر دیگر ورثاء کو ان کے حق سے محروم کرنا شرعا ناجائز وحرام اور غصب کے زمرےمیں آتا ہے ، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، جبکہ سائل کے والد کا اس زمین میں اپنے حق کےبقدر چچا کےمذکور مکان سے اپنا حصہ وصول کرنے کی اگرچہ گنجائش ہے ، مگر اس حصہ کے حصول کو غیرت و انا کا مسئلہ بناکر ایک دوسرے کی جان ومال کے درپے ہونا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ بہت سارے مفاسد کاذریعہ ہے، لہذا سائل کااور اس کے بھائیوں کا اس خاندانی مسئلہ کو حکمت و دانائی اور قانونی طریقے کے مطابق حل کرنا قابل تحسین عمل ہے، جس پر ان کے والد کی ناراضگی کا ظہار کرنا اور ان سے بات چیت بند کردینا درست طرز عمل نہیں ، جس سے انہیں احتراز چاہیے،اورسائل کے چچا پر بھی لازم ہے کہ وہ جلد ازجلد مذکور زمین میں سے دیگر ورثاء کو ان کاحق حوالہ کر کے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے ، بصورتِ دیگر ورثا ء کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا، نیزسائل کو چاہیئے کہ ادب واحترام کے ساتھ والد صاحب کو سمجھائے اور مذکور معاملہ کے حل کےلئے اپنے خاندان کے با اثر شخصیات کو درمیان میں لاکر یہ معاملہ صلح وغیرہ کے ذریعے حل کرنے کی بھی کوشش کر لے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التنزیل العزیز: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ الخ (سورۃ النساء 29)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النهى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النهي عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ( سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172،ط: سہیل اکیڈمی لاہور)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى الخ ( کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، ج1، ص 255، ط: قدیمی)
وفیھا ایضاً: وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه.
وفی المرقاۃ تحت قولہﷺ (يوم القيامة) قال الطيبي رحمه الله: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران،الخ(کتاب البیوع، باب الوصایا،الفصل الثالث، ج 6، ح 3078،ط: المکتۃ الحقانیۃ)۔
وفیھا ایضا تحت الحدیث: وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف . متفق عليه.الخ
(وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة) أي لأحد كما في رواية الجامع الصغير أي من الإمام وغيره كالوالد والشيخ (في معصية) وفي رواية الجامع: في معصية الله (إنما الطاعة في المعروف) أي ما لا ينكره الشرع (متفق عليه) ورواه أبو داود وابن ماجه الخ( کتاب القضاء والامارۃ،الفصل الاول، ح3665،ج7، ص247،ط: المکتبۃ الحقانیۃ)۔
(ومثل دينه ولو) دينه (مؤجلا أو زائدا عليه) أو أجود لصيرورته شريكا (إذا كان من جنسه ولو حكما) بأن كان له دراهم فسرق دنانير وبعكسه هو الأصح لأن النقدين جنس واحد حكما خلاف العرض ومنه الحلي، فيقطع به ما لم يقل أخذته رهنا أو قضاء. وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة الخ
وفی الرد(تحت: قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض، لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ.( کتاب السرقۃ، ج4، ص95-94، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83886کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات