میرے والدین اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، والدہ ماجدہ 2003 کو، اور والد محترم 2010 کو رحلت فرما گئے ، ہم چھ بھائی ہیں، اور چار بہنیں ، میں والدین کی زندگی سے گھر کی کفالت کر رہا ہوں، گھر کی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی میرے خرچے سے آتی رہی، بہن بھائیوں کی بھی ضرورت کی تمام اشیاء میں لیکر آتا تھا، اب میرے بھائی گھر میں سے حصہ مانگ رہے ہیں، میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ حصہ مانگ رہے ہو، اور میں نے جو اتنے عرصے تک آپ لوگوں کی کفالت کی ، اور آپ کی ضروریات پوری کرتا رہا اس کا کیا ہو گا؟ تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تمہارا فرض تھا، میں ان سے کہتا ہوں کہ میں نے جو تم پر خرچ کیا ہے، وہ اندازاً ستر (70) لاکھ ہے، پہلے مجھے میری رقم دو، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میر امطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟
سائل کے ذمہ اپنے بالغ بہن بھائیوں پر خرچ کرنا فرض نہیں تھا، لہٰذا سائل کے مذکور بھائیوں کا احسان ماننے کے بجائے یہ کہہ کر اس کو ایذاء پہنچانا کہ یہ تمہارا فرض تھا مناسب نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل نے اپنے بہن بھائیوں کی کفالت پر جورقم خرچ کی ہے، اس کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ اگر پہلے سے سائل نے ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھا کہ خرچ کی گئی رقم ، تقسیمِ ترکہ کے وقت وہ وصول کرے گا، یا اس کی قرض ہونے کی وضاحت کی تھی، اور اس کا سائل کے پاس کوئی ثبوت بھی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کا اپنے بہن بھائیوں سے خرچ کی ہوئی رقم کا مطالبہ کرنا یا تر کہ میں سے اس کی کٹوتی کرنا درست ہے، تاہم اگر ایسی کوئی صورت نہ ہو، تو سائل کی طرف سے جورقم خرچ ہوئی ہے وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ تعاون اور تبرّع واحسان ہے ، جس کا اسے اجر و ثواب ملے گا، مگر بہن بھائیوں سے اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں، تاہم اگر بہن بھائی اس کے احسانات کو دیکھتے ہوئے اپنی مرضی سے صلح و مصالحت کے ذریعے والدین کے ترکہ میں سے اسے اضافی کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ،اور شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) ما هو في معنى العوض، وهو ثلاثة أنواع: الأول: صلة الرحم المحرم فلا رجوع في الهبة لذي رحم محرم من الواهب وهذا عندنا اھ (6/ 132) والله اعلم بالصواب