کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے آج سے دس دن پہلے مجھے ایک طلاق دی ہے تو کیا میری عدت واقعہ ہو چکی ہے ، اور میرے ہار مونز کا مسئلہ ہے ، جس کی وجہ سے ماہواری آنے میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے ، مہینے مہینے لگ جاتے ہیں ، جبکہ میری عمر 48 سال ہے ؟ یہ بات تو یقینی ہے کہ مجھے کوئی حمل بھی نہیں ہے گھریلو مسائل کی وجہ سے میرا میرے شوہر کے ساتھ کافی عرصے سے کوئی جسمانی تعلق بھی نہیں تھا ، کیا مجھے تین ماہواریوں تک ہی انتظار کرنا ہوگا ، چاہے جتنا وقت لگ جائے یا میری عدت تین ماہ ہی ہو گی ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ اگر ماہواری سے مایوسی کی عمر کو نہ پہنچی ہو بلکہ اسے فقط ہارمونز کی وجہ سے ماہواری آنے میں تاخیر ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ پر تین ماہواریاں عدت ہی گزارنا لازم ہو گا دوران عدت دوسری جگہ نکاح کرناجائزنہ ہو گا بلکہ اس سلسلہ میں کسی لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کر تے ہوئے علاج معالجہ کر کے تیسری ماہوای کے اختتام تک عدت کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہے تاہم علاج معالجہ کی صورت میں بھی اگرماہواری آنےکی کوئی امید نہ ہو تو مذکور بیمار ی یا دیگر وجوہات کی بنا ء پر آخری بار ماہواری کاخون رکنے کے بعد سے سائلہ کونو ماہ تک،ماہوری نہ آنے تو نو ماہ کی مدت کے بعد وہ شرعا مایوسی کی عمر کو پہنچنے والی عورت شمار ہو گی جس کے بعد اسے تین ماہ عدت گزارنالازم ہو گا اور ان تین ماہ مکمل ہو نے پر وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کمافی المغنی لابن القدامۃ روی عن عمر رضی اللہ عنہ انہ قال فی رجل طلق امراتہ فحاضت حیضۃ او حیضتین فارتفع حیضھا لاتدری مارفعہ تجلس تسعۃ شہر فاذا لم یستبن بھا الحمل تعتد بثلاثۃ اشہر فذالک سنۃ ولانعرف لہا مخالفا قال ابن المنذر قضی بہ عمر رضی اللہ عنہ بین المہاجرین والانصار ولم ینکر منکر الخ ( ج: 8 ص : 90 ناشر دار الفکر
وفی در المختار الشابۃ الممتد با لطہر بان حاضت ثم امتد طہرہا فتعتد با لحیض الی ان تبلغ سن الایاس جوہرۃ ومافی شرح الوھبانیۃ من انقضائھا بتسعۃ اشہر وقال الشامی قال العلامہ والفتوی فی زماننا علی قول مالک وعلی ما فی جامع الفصولین ؛ لو قضی قاض بانتقاء عدتہا بعد مضی تسعۃ اشہر نفذ الی قولہ قال الظہری وقد کان بعض اصحابنا یفتون بقول مالک فی ھذہ المسءالۃ للضرورۃ الخ ( باب العدت ج:3 ص:508 ناشر سعید)
وفی البحرالرائق ولو قضی قاض بانقضاٰء عدۃ الممتد طہرہا بعد مضی تسعۃ اشہر نفذ کما فی جا مع الفصولین ونقل فی المجمع ان مالکا یقول ان عدتہا تنقضی مضی حول وفی شرح المنظومۃ ان عدۃ الممتد طہرہا تنقضی بتسعۃ اشہر کما فی الزخیرۃ معزیا الی حیض منھاج الشریعۃ ونقل مثلہ عن ابن عمر قال وھذہ المسئالۃیجب حفظہا لانہا کثیرۃ الوقوع وذکر الزاہدی وقد کان بعض اصحابنا یفتون بقول مالک فی ھذہ المسئالۃ للضرورۃ ( باب العدۃ ج : 4 ص : 131 ناشر ماجیدیہ)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0