محترم جناب مجھے انشورنس کے بارے فتوی جاننا ہے کہ اگر میں روایتی (Conventional) انشورنس کروانا چاہوں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کہ میرے بعد ان کو کچھ رقم مل جائے اس کے ۔کیونکہ ہمارے پاس نہ کوئی جائیداد ہے، نہ بینک بیلنس، اور نہ ہی کوئی اثاثہ جات، سوائے ایک بیڈ روم کے۔ کہ ہم بچوں کیلئے کچھ بنا ہوا چھوڑ کر جائیں، میں اس کو لیکر بہت پرییشان ہوتا ہوں اور میری بیوی بھی، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو لیکر بہت پریشان ہوتی ہے، کہ آج اپنے اخراجات پورے نہیں کر پارہیں تو کل اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟ اور ان کی کل کو آگے یونیورسٹی کی مہنگی تعلیم کا اور پھر شادیوں کے خرچے کہاں سے کریں گے۔جناب بس ان کچھ معاملات کے لئے انشورنس کروانا چاہتا ہوں بچوں کے نام پر ، روایتی انشورنس میں مدت پوری ہونے پر اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔ وہ کروانا چاہتا ہوں لیکن میں اس کے شرعی پہلو کے بارے میں پریشان ہوں اور ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ سود یا ناجائز معاملہ نہ ہو۔براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ اگر روایتی انشورنس شرعاً درست نہیں تو پھر تکافل والی انشورنس پالیسیوں کے بارے میں جو حکم ہو وہ فرمادیجئے ، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
واضح ہوکہ مروجہ انشورنس كمپنيوں كا بیشتر كاوربار سود، قمار اورديگر شرائط فاسدہ پر مبنى ہوتاہے جس كى بناء پر ان كمپنيوں كى كوئى پاليسى لينا شرعا ناجائز اورحرام ہے اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔تاہم مروجہ انشورنس كا جائز متبادل تكافل ہے کمپنیوں میں سے جوکمپنیاں رباوقمار اورغررسے پاك پاليسياں فراہم كررہى ہیں، جس ميں باہمى تعاون وتناصر اورتبرع پر مبنى طريقہ كارہوتاہے لہذا جو کمپنی مستند ومعتمد مفتيان كرام كى نگرانى ميں اپنى خدمات سر انجام دے رہی ہو، تو سائل کو چاہیئے انشورنس کرانے کے بجائے اس کا جائز متبادل تکافل کی پالیسی لے تا کہ وہ اپنى ضرورت پورى کر سکے اور شرعا بھى جائز ہو۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0