گناہ و ناجائز

سودی بنکوں میں سیونگ اکاونٹ کھولنے کاحکم

فتوی نمبر :
84218
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سودی بنکوں میں سیونگ اکاونٹ کھولنے کاحکم

بنک اکاؤنٹ بلا سود سے کھولنا یعنی جو اضافی رقم ملے گا ان کو بلا ثواب کے نیت سے کسی غریب کو دے دینا، اور سرکاری ملازم اس نیت سے پیسے رکھتا ہے کہیں ادارے کی طرف سے Reacovry پنشن کے وقت ادا کر نا پڑے تو اب سے تھوڑا پیسہ جمع کرو بعد میں بوجھ نہ ہو، کیا درج بالا مجبوریوں کے تحت بنک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں یا نہیں؟
سوال: کیا شیزان ، پیپسی کوک کے مشروبات اور موبائل کا استعمال کرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۔ سوال میں مذکور اغراض سے بھی سودی بنکوں کے سیونگ اکاونٹ میں پیسے جمع کرنا جائز نہیں ۔
۔ شیزان قادیانیوں کی مصنوعات میں سے ہے اور قادیانی بالاتفاق خبيث الاعتقاد زندیق اور کافر ہیں ۔ ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے ۔ لہذا شیزان کی مشروبات سے احتیاط کرنا بہتر ہے۔ جبکہ دیگر مشروبات اور کیو موبائل استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح مسلم: عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يؤمن عبد - و في حديث عبد الوارث: الرجل - حتى أكون أحب إليه من أهله وماله والناس أجمعين " (1/ 67)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 84218کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات