گناہ و ناجائز

کسی کے اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے پر اضافی رقم لینا

فتوی نمبر :
84241
| تاریخ :
2025-07-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی کے اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے پر اضافی رقم لینا

ہم کوریا میں تعلیم کے لیے طلبہ بھیجنے کا کام کرتے ہیں، لیکن کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طالبِ علم کے بینک اکاؤنٹ میں ایک ماہ کے لیے تیرہ ہزار ڈالر کی رقم موجود ہو، بعض طلبہ یہ رقم سود پر قرض لے لیتے ہیں، اس لیے ہم نے ایک متبادل تجویز پیش کی ہے کہ ہم ایسے شخص سے معاہدہ کریں جس کے پاس رقم موجود ہو، وہ یہ رقم طالبِ علم کے اکاؤنٹ میں ایک ماہ کے لیے جمع کر دے، اور پھر ہمیں بینک اسٹیٹمنٹ (اکاؤنٹ کا ثبوت) فروخت کر دے جو اس رقم کی موجودگی کو ظاہر کرے، ایک ماہ بعد وہ شخص اپنی رقم واپس لے لے، اور ہم اسے اس اسٹیٹمنٹ (کشفِ حساب) کی طے شدہ قیمت ادا کر دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور صورت جھوٹ اور اعانت علی المعصیۃ (گناہ میں تعاون) وغیرہ کی بناء پر شرعاً ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وتعاونوا علی البر والتقوٰی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان الخ (سورۃ مائدۃ،آیۃ2)۔
کما فی بدائع الصنائع : و أما الذی یرجع إلی نفس القرض فھو أن لا یکون فیہ جر منفعۃ فإن کان لم یجز نحو إذا أقرضہ دراھم غلۃ علی أن یرد علیہ صحاحاً أو أقرضہ وشرط شرطا لہ فیہ منفعۃ لما روی رسول اللہﷺ أنہ نھی عن قرض جرّ نفعاً ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا لأنھا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب الخ ( کتاب القرض،ج7، ص 395، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار : کل قرض جرّ نفعاً حرام الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ کل قرض جرّ نفعاً حرام الخ) أی إذا کان مشروطاً الخ ( کتاب القرض ، ج 5 ، ص 166 ، ط : سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84241کی تصدیق کریں
0     362
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات