کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کی دو بیٹیاں ہیں، ایک ذہنی معذور ہے، اور دوسری تندرست طلاق یافتہ ہے، اور مر حوم کی پنشن ذہنی معذور بیٹی کے نام ہے، اور اس کے نام پر آتی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ اس معذور لڑکی کی دوسری بہن جو طلاق یافتہ ہے، اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہے ،اور اس کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تو کیا وہ ہر مہینے اس پنشن میں سے کچھ استعمال کر سکتی ہے ؟
مذکور ذہنی معذور لڑکی کے نام آنے والی پنشن تو اس کا حق ہے ، مذکور لڑکی کی طلاق یافتہ بہن یا کسی اور شخص کے لئے اس میں سے رقم لیکر اپنے ذاتی استعمال میں صرف کرنا جائز نہیں ، البتہ مذکور طلاق یافتہ بہن اگر اس کی دیکھ بھال میں مشغول ہو ، اور اس کا اور کوئی ذریعہ آمدن بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے بقدرِ ضرورت اس پنشن میں سے لیکر اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے۔
كما في الدر المختار: للوصي الأكل والركوب بقدر الحاجة، قال تعالى - {ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف} [النساء: 6] (6/ 725)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله للوصي الأكل إلخ) قدمنا في الخانية أنه استحسان إذا كان محتاجا بقدر ما سعى. (6/ 725)۔