محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ الله و بركاتہ!
ہمارے مدرسے میں کچھ طالب العلم ایسے ہیں جو کہ حافظ نہیں ہیں ، اس کے با وجود جب وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو غالباً وہ بہت غلطیاں کرتے ہیں اور کبھی کبھار بہت فحش غلطیاں کرتے ہیں۔ کیا ان کے لئے قرآن پڑھنا جائز ہے یا پہلے کسی قاری کے پاس سیکھ کر پھر پڑھنا چاہیئے ؟ اس حالت میں ان کی تلاوت کا کیا حکم ہے؟ مدلّل جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ والسلام
ایسے طلباء کو کسی ماہر قاری صاحب سے اپنی تجوید درست کروانا لازم ہے تاہم وہ سیکھنے کے دوران تلاوت بھی کر سکتے ہیں اسے بند نہ کریں۔
و في صحيح مسلم: عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة، والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه، وهو عليه شاق، له أجران». (1/ 549)۔
و في شرح صحيح مسلم للنووي: ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران". (إلی قوله) وأما الذي يتتعتع فيه فهو الذي يتردد في تلاوته لضعف حفظه فله أجران: أجر بالقراءة وأجر بتتعته في تلاوته ومشقته اھ (19/ 178)۔
و في فتح الملهم : قوله يتتعتع فيه أی یتردد و يتلب عليه لسانه ويقف فى قراءته لعدم مهارته والتعتعة في الكلام التردد فيه من حصر أو وعى يقال تعتع لسانه إذا توقّف في الكلام ولم يطعه لسانه قوله وهو عليه شاق أى والحال أن القرآن في حصوله أوتردد فيه عليه شديد يصيبه منه مشقة اھ (۵/ ۲۳۵)۔