کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ وہ سرکاری ملازم جو ڈی ایس پی فنڈ ماہوار کی بنا پر گورنمنٹ کی طرف سے لازمی طور پر کاٹا جاتا ہے، اور اُس پر سالانہ ۱۳ فیصد سے لے کر ۱۵ فیصد تک منافع دیا جاتا ہے، کیا یہ منافع جو سروس ختم ہونے پر ملتا ہے، کیا یہ نفع لینا درست ہے؟ نیز وہ سرکاری ملازم اپنی طرف سے اگر زیادہ فنڈ کٹائے جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے لازمی نہیں ہے، اُس پر بھی اتنا ہی نفع ملتا ہے یعنی ۱۳ فیصد سے ۱۵ فیصد تک تو کیا یہ جائز ہے یا نا حائز ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقعہ دیں۔
سائل کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ DS-P فنڈ پراویڈنٹ فنڈ ہی کا دوسرا نام ہے، جس کے حکم میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ ہےکہ جو فنڈ جبری طور پر کاٹا جاتا ہے اس پر سروس کے ختم ہونے پر ۱۳ سے ۱۵ تک منافع کے نام سے جو رقم دی جاتی ہے وہ سود کے زمرے میں نہیں آتی ،بلکہ شرعاً وہ بھی اجرت ہی کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے، اس لئے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ جائز اور درست ہے البتہ اختیاری طور پر مذکور فنڈ میں شرکت کر کے اس پر سالانہ یا سروس ختم ہونے پر منافع لینے سے احتراز چاہیئے ۔
قال في البحر الرائق : البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (7/ 300)۔