گناہ و ناجائز

ڈیجیٹل تصویر کو پرنٹ کرنا

فتوی نمبر :
84445
| تاریخ :
2025-07-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ڈیجیٹل تصویر کو پرنٹ کرنا

میں کام کرتا ہوں 3D کا، character design اور animation کا۔ اسی طرح OBJECTS اور props بھی بناتا ہوں۔
اب میرے پاس 3D printing کا بھی کام آتا ہے۔ کچھ clients مجھے images دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے 3D sculpts بنا کے دو تاکہ 3D print کروا سکیں۔
اسی طرح بعض اوقات animals جیسے ox، yak اور dogs کی images بھی دیتے ہیں۔
جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ان sculpted models کا کیا کریں گے، تو وہ کہتے ہیں کہ
"as a decoration piece رکھیں گے"، "as a gift دیں گے" یا پھر "as a memory یا یادگار چیز کے طور پر"۔
ان images میں male اور female دونوں کی شکلیں ہوتی ہیں۔
اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟
کیا یہ کام کرنا میرے لیے جائز (halal) ہے یا نہیں؟ Detail mn btaye ga please.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب سے پہلے بطور تمہید دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے:پہلی یہ کہ ڈیجییٹل تصاویرimages(جسے خارج میں دیکھنا جائز ہو)جب تک صرف کمپیوٹر یا موبائل اسکرین تک محدود ہوں اور اس کا پرنٹ آوٹ نہ لیا جائے تو اکابر علماء کی تحقیق کے مطابق وہ شرعاً ممنوعہ تصاویر میں داخل نہیں،البتہ جاندار (مثلا:مرد،عورت یا کتے وغیرہ جانور) کی پرنٹ شدہ تصاویر یا تصاویر کو پرنٹ کرنا تصویر سازی کے حکم میں داخل ہےجو شرعاً حرام اور ناجائز ہے اور اس پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔دوسری بات یہ کہ جس طرح خود گناہ کرنا حرام ہے، اسی طرح گناہ کرنے والے کی مدد یا تعاون کرنا بھی شرعاً حرام اور ناجائز ہے،جس سے شریعت میں منع کیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے:"اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو"(المائدة:2) ۔ اس تمہید کے بعد سائل کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی گاہک سائل سے باقاعدہ اس بات کی صراحت کردے کہ مجھے کسی جاندار کی تصویر 3Dپرنٹنگ کےلئے بناکر دےتو ایسی صورت میں مرد، عورت یا دیگر جاندار کی 3D sculptsتصویر بناکر گاہک کو دینا گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے ممنوع اور ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔البتہ غیر جاندار مثلاً درخت، عمارتیں، برتن، فرنیچر، پہاڑ وغیرہ کی 3D designing یا printing شرعاً جائز ہے۔لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ جاندار کے پرنٹ آؤٹ کے لیے تصویر سازی کے کام سے اجتناب کرے،

مأخَذُ الفَتوی

«مشكاة المصابيح» :
وعن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌كل ‌مصور ‌في ‌النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم» . قال ابن عباس: فإن كنت لابد فاعلا فاصنع الشجر وما لا روح فيه(باب التصاوير،الفصل الأول،ج:2،ص:1274،ط:بيروت)
فقه البیوع: (192/1، ط: معارف القرآن)
الإعانة على المعصية حرام مطلقا بنص القرآن أعني قوله تعالى: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظهيرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الإعانة حقیقة هي ما قامت المعصية بعین فعل المعین، ولا يتحقق إلا بنية الإعانة أو التصريح بها…لخ۔والثاني(أي:ما قامت به المعصية بعينه): بتصريح المعصية فى صُلب العقد، كمن قال: بعني هذا العصير لأتخذه خمراً، فقال: بعته، أو أجِر لى بيتك لأبيع فيه الخمر، فقال: أجرته، فإنه بهذا التصريح تضمّن نفس العقد معصية، مع قطع النظر عما يحدث بعد ذلك من اتخاذه خمراً، وبيع الخمر فيه.
وفيه أيضا (194/1):
وكذلك الحكم في بَرمَجَة الحاسب الآلي(الكمبيوتر)... أو كان البرنامج مشتملا على ما لا يصلح إلا في الأعمال الربوية ، أو الأعمال المحرّمة الأخرى ، فإن العقد حرام و باطل ۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» :
«قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره ‌التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ»(ج:1،ص:647،ط:ايچ ايم سعيد)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 392):
(و) جاز (إجارة بيت ... ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.
‌‌[رد المحتار]
نعم يظهر الفرق على ما قدمه الشارح تبعا لغيره من التعليل، لجواز بيع العصير بأنه لا تقوم المعصية بعينه، بل بعد تغيره فهو كبيع الحديد من أهل الفتنة، لأنه وإن كان يعمل منه السلاح لكن بعد تغيره أيضا إلى صفة أخرى.(ج:6،ص:392)
‌‌[رد المحتار]
مطلب في كراهة بيع ما تقوم المعصية بعينه (قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: لأنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب.
«المبسوط» للسرخسي (24/ 26):
«وكره ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله استحسانا؛ لأن بيع العصير، والعنب ممن يتخذه خمرا ‌إعانة ‌على ‌المعصية، وتمكين منها، وذلك حرام، وإذا امتنع البائع من البيع يتعذر على المشتري اتخاذ الخمر، فكان في البيع منه تهييج الفتنة، وفي الامتناع تسكينها.»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84445کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات