کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف سے سود پر قرض لے رہی ہے ، اور اس کو دیگر شعبوں مثلاً ہیلتھ ، فوڈز، ترقیاتی کاموں وغیرہ میں خرچ کرتی ہے ، اب حکومتِ پاکستان سے ان شعبوں کے تحت کام کرنے سرکاری ملازمین کا تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
(2)۔ آف شور کمپنی نے بینک سے سود پر قرض لیا ہے ، اور اس سے کمپنی چلا رہا ہے ، اور کمپنی کے بجٹ سے بینک کی قسط بھی دیتا ہے ، اور ملازمین کو اس بجٹ سے تنخواہ بھی دیتا ہے ، اب ملازمین کے لئے اس کمپنی میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
(3)۔ اور اگر مذکور کمپنی بینک سے بغیر سود پر قرض لے ،تو اس صورت میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
(1)۔حکومتِ پاکستان کا آئی ایم ایف سے سودی قرض لیکر اس سے مختلف شعبہ جات میں کام کرانا درست نہیں، حکومتی اراکین اس کی وجہ سے گناہ گار ہوتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ جلد سے جلد اس قرض کو واپس کر کے سود کی لعنت سے ملک و قوم کو نجات دلائیں، تاہم سرکاری ملازمین کا گورنمنٹ سے تنخواہ لینا اور اپنی ملازمت بر قرار رکھنا جائز اور درست ہے۔
(2،3): کسی بھی سودی بینک سے بغیر سود قرض لینا تو جائز ہے، اس میں حرج نہیں، البتہ سودی قرض لینا نا جائز اور حرام ہے، کمپنی مالکان نے بینک سے سودی قرض لیا ہو تو اس سے خود مالکان تو گناہ گار ہونگے ، مگر ایسی کمپنی میں کام کرنا اور اس سے تنخواہ لینا ملازمین کے لئے جائز اور درست ہے۔
قال الله تعالى : احل الله البيع وحرم الربوا (سورة البقرة)۔
و في الدر المختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر) . (6/ 391)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل اھ (6/ 391)۔