کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ویسے تو پالر کا کام حرام ہے، سیکھنا یا کرنا، دو کاموں کی وجہ سے ایک آئی بروز بنانا، دوسرا بالوں کی کٹنگ ، لیکن اس کے علاوہ جو بھی کام پارلر میں ہوتا ہے جائز ہے ، لیکن اگر کوئی یہ دو کام نہ سیکھے نہ کرے تو کیا پارلر کا کام جائز ہو گا؟ یہ پارلر سے جو لیڈیز کام کروائیں گی ،مثلاً دلہن تیار کرنا وغیرہ اور غیر محرم کے سامنے جانا تو کیا اس کا گناہ پارلر والی پر ہوتا ہے ؟ ویسے تو ہم دونوں بہنیں بھی عالمہ ہیں، لیکن ہمارے شوہروں کی اتنی آمدنی نہیں ہے، گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے، تو ہم دونوں بہنیں پارلر کا کام سیکھنا اور پھر سیکھنے کے بعد کرنا چاہتی ہیں، تو ہمارے لئے کیا فتوی ہو گا؟ برائے مہربانی بتا دیں؟
بیوٹی پارلر میں اگر حدودِ شرعیہ کی مکمل رعایت کرتے ہوئے بناؤ سنگھار کیا جائے ، جیسے شرعی حدود میں رہتے ہوئے چہرے وغیرہ کامیک اپ کرنا، بالوں کو بلیچ یا رنگ لگانا ، ناخن تراشنا، مہندی لگانا، خواتین کے چہرے پر اگر ڈاڑھی یا مونچھیں نکل آئیں یا دھبے پڑ جائیں ،تو ان کو صاف کرنا وغیرہ، جبکہ خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو ، جیسے خواتین کے بال غیر شرعی طریقہ پر کاٹنا بالخصوص اس میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنا، بھنوؤں کا غیر ضروری طور پر بالکل باریک کرنا ، زیر ناف ستر عورت کا دیکھنا اور مساج کرنا، مردوں کا عمل دخل ہونا، آوارہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہونا وغیرہ، تو ایسے بیوٹی پارلر میں کام سیکھنا اور اس کے کام کو ذریعہ معاش بنانا جائز ہے، بیوٹی پارلر سے تیار ہونے کے بعد اگر کوئی خاتون کسی گناہ کی مرتکب ہوتی ہو ،جیسے غیر محارم کے سامنے بے پر دہ جانا وغیرہ تو اس سے تیار کرنے والی پر اس کے اس عمل کی وجہ سے گناہ بھی نہ ہو گا۔
كما في المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة: و في «الفتاوى»: إذا استأجر مشاطة ليزين العروس فالإجارة فاسدة، والأجر مكروه غير طيب لها إلا أن يكون على وجه الهدية من غير شرط ولا يتقاضى، فيكون أهون وفيه نظر. والصواب أن يقال إذا استأجرها مدة معلومة أو كان العمل معلوماً أنه يجوز الإجارة ويطيب لها الأجر لأن تزيين العروس ليس بمعصية، بل هو مباح فصار كسائر الأعمال المباحة. (8/ 377)۔
و في الدر المختار : قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ. (6/ 407) والله اعلم بالصواب