کیاآپ واضح کر سکتے ہیں کہ فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟ اس کے علاوہ میں اسلام میں کرپٹو کرنسی کی اجازت کے بارے میں آپ کی رہنمائی کی تعریف کروں گا ۔
(1)واضح ہو کہ ”کرپٹو کرنسی “کا کوئی حسی وجود نہیں، بلکہ محض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، لہذا کرپٹو ٹریڈنگ کرنا ،چاہے اسپاٹ یا فیوچر ٹریڈنگ ہو، شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
(2)جبکہ ”فاریکس ٹریڈنگ“ میں عام طور پر خرید وفروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اسی وجہ سے اس کا روبار میں عموماً قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے،جوکہ شرعاً جائز نہیں ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروباردرست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، تا ہم اگر کوئی شخص اپنے کسی وکیل کے ذریعے حلال اشیاء خریدنے کے بعد ان پر قبضہ کر کے پھرآگے بیچے تو بلا شبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا ، مگر چونکہ اس کاروبارمیں عموماً ایسا نہیں ہوتا ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
کماقال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورة المائدة،الأیۃ: 90)-
و في صحيح مسلم : عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه ». قال ابن عباس وأحسب كل شىء مثله. ( كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض،ص،538،ط:مؤسسۃالرسالۃ)۔
و فی سنن ابن ماجۃ: عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یستوفیہ قال ابو عوانۃ فی حدیثہ قال ابن عباس و احسب کل شیئ مثل الطعام (ج: 3، ص: 749، ط: مکتبۃ العلمیۃ )۔
و في رد المحتار : تحت ( قوله : و شرطه أهلية المتعاقدين ) و شرط المعقود عليه ستة : كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه ، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه ، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع و الثمر قبل ظهوره الخ ( مطلب شرائط البيع أنواع أربعة، ج 4، ص 505، ط : سعيد)-
و في الهندية: السباق يجوز (إلى قولہ) وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهماالخ (الباب السادس في المسابقة، ج 5، ص 324، ط : ماجدية)-