کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک زمیندار ہوں، ہوتا یہ ہے کہ کبھی میرے پاس کھاد " یوریا" وغیر ہ ختم ہو جاتی ہے، تو میں کسی اور زمیندار سے حسبِ ضرورت پانچ یا چھ بوری یوریا کھاد لے لیتا ہوں ،پھر جب میری کھاد آ جاتی ہے تو میں اس زمیندار کو وہ بوریاں واپس کر دیتا ہوں ، کیا اس طرح کرناشریعت مطہرہ کی روشنی میں جائز ہے ؟ اسی طرح ہمارے گھر میں بسا اوقات آٹا ختم ہو جاتا ہے، تو ہم پڑوسیوں سے ایک ڈبا آٹا ادھارلے لیتے ہیں، جو تین چار کلو کا ہوتا ہے یا کبھی گھی چینی ادھار لیتے ہیں، پھر جب ہمارا سودا سلف آجاتا ہے تو ہم وہ لی ہوئی چیز میں واپس کر دیتے ہیں، ایسا کر ناشر نا جائز ہے ؟
جتنی کھاد یا چینی آٹا وغیرہ ادھار لیا ہو ، اور جس برتن یا وزن کے مطابق لیا ہو، اتناہی بعد میں واپس کیا جائے، تو بوقت ضرورت اس کا تبادلہ کرنا بھی جائز اور درست ہے۔
ففى الدر المختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل. واعلم أن المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء اھ (5/ 161)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض. وحاصله: أن المثلي ما لا تتفاوت آحاده أي تفاوتا تختلف به القيمة فإن نحوه الجوز تتفاوت آحاده تفاوتا يسيرا اھ (5/ 161)۔
و في الدر المختار: وفيها استقراض العجين وزنا يجوز وينبغي جوازه في الخميرة بلا وزن «سئل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن خميرة يتعاطاها الجيران أيكون ربا فقال ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن وما رآه المسلمون قبيحا فهو عند الله قبيح» (5/ 167) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1