میری بہن 22سال سے ہمارے ساتھ ہے،اس کی ایک بیٹی ہے ماشاء اللہ ،اس کی شادی کے فرائض بھی نانا نانی نے ادا کیے ہیں،شوہر سے بائیس سال سے رابطہ نہیں کیا ہے، اور بہن اب خلع لینا چاہ رہی ہے، خلع کے بعد عدت کرنی لازمی ہے ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اورمبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پرکہ سائل کی بہن کے ساتھ اس کے شوہر نے بائیس سال سے رابطہ قائم نہ کیا ہو،اور نہ ہی وہ اس کا نان ونفقہ ادا کررہا ہو،اور باوجود کوشش کے اس رشتے کو باقی رکھنے کی کوئی صورت بھی ممکن نہ ہوتو سائل کی بہن اپنے شوہر کو طلاق یا اپنے حق مہر کی معافی ،یا کچھ رقم کے عوض شوہر کو خلع پر راضی کرکے اس سے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے ،اور اس کی وجہ سے سائل کی بہن گناہ گار بھی نہ ہوگی ۔
جبکہ دو طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس کی عدت بھی وہی ہوگی ،جو کہ طلاق کی عدت ہے،یعنی اگر عورت حاملہ نہ ہو،اوراس کو حیض آتاہوتو تین ماہواریاں گزرنے اور اگرعمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہوتوخلع کے بعد تین ماہ گزرنے سے اس کی عدت مکمل ہوگی۔ تاہم اگرسائل کی بہن کا شوہر خلع دینے کے لئے بھی تیار نہ ہو، اور نہ گھر بساکر بیوی کا نان ونفقہ اور دیگر حقوق ادا کررہاہو،اور نہ ہی طلاق دیتا ہوتو ایسی صورت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہذا ایسی مجبوری میں سائل کی بہن کو نان ونفقہ نہ دینےاور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا،جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائل کی بہن اپنا مقدمہ مسلمان حاکم(جج) کے سامنے پیش کرے،اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو، وہ اس کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعےپوری تحقیق کرے، اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہوجائے،تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو ،یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردینگے، اس کے باوجو اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنےکو تیار نہ ہوتو بغیر کسی مہلت و انتظار کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کرسکے گی، اور عدت کی ابتداء قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہوگی۔
بہرصورت ایک دوسرے سے بائیس سال سے الگ رہنے کے باوجود خلع و طلاق کے ذریعے علیحدگی ہونے کی صورت میں بیوی کے ذمہ عد ت لازم ہوگی۔
قال الله تعالى: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (سورة البقرة /٢٢٨)-
وقال اللہ تعالٰی:وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًامِّنْ أَهْلِهَآ إِنْ يُّرِيْدَآ إِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ ٱللّٰهُ بَيْنَهُمَاإِنَّ ٱللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيْرًا (سورة النساء/٣٥)۔
وفي احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ(3/153) ۔
وفى الھندية:واذا تشاق الزوجان وخافا ان لا يقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدى نفسها منه بمال يخلعها به فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بأئنۃ ولزمها المال كذا في الهدايه(باب في الخلع/1/488)۔
و في الدر المختار: ولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمھر) إلى (قوله) (و) حكمه أن الواقع به ولو بلا مال وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن وثمرته فيما لو بطل البدل كما سيجيء (و) الخلع هو من الكتابات فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) من قرائن الطلاق الخ (3/441/444)۔
و فی رد المحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فھو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اھ(3/441)۔
وفی حلیۃ الناجزۃ للحیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق والا طلق علیہ قال محشیہ: ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ (73)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0