گناہ و ناجائز

امام کا مسجد کے چندہ سے اپنی تنخواہ کی بقیہ رقم وصول کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
84870
| تاریخ :
2025-08-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

امام کا مسجد کے چندہ سے اپنی تنخواہ کی بقیہ رقم وصول کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته !میں ایک دیہی علاقے کی مسجد میں بطور امام خدمت انجام دے رہا ہوں۔ میری مقرر کردہ تنخواہ ابتدا میں بارہ ہزار روپے ماہانہ تھی، جو گاؤں کی سابقہ آبادی کے تناسب سے طے کی گئی تھی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ گاؤں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی، جس کا اثر براہِ راست میری تنخواہ پر بھی پڑا۔ اب مجھے ماہانہ صرف پانچ یا چھ ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے امام مسجد کو ماہانہ دس ہزار روپے کی امداد دی جاتی ہے، مگر یہ بھی باقاعدگی سے نہیں ملتی، بلکہ تین یا چار ماہ کے وقفے سے یک مشت دی جاتی ہے۔ چونکہ موجودہ حالات میں یہ مجموعی آمدن میرے اور میرے اہلِ خانہ کے لیے ناکافی ہے، اس لیے میری گزارش ہے کہ: کیا میں مسجد کے چندے سے اپنی باقی ماندہ تنخواہ (یعنی چھ یا سات ہزار روپے ماہانہ) لے سکتا ہوں؟ واضح رہے کہ مسجد کے چندے کی نوعیت عمومی ہے، یعنی مسجد کی ضروریات کے لیے جمع کیا جاتا ہےنہ کہ کسی مخصوص مد میں۔ برائے مہربانی اس مسئلے پر شرعی راہ نمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ نوٹ : مسجد کا متولی بھی میں ہوں اور اہل محلہ نے چندہ خرچ کرنے کا اختیار مجھے دیا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیئے کہ مسجد کمیٹی اور انتظامیہ کے سامنے اپنی مجبوری رکھ کر ان سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرے،چنانچہ مسجد کمیٹی کی اجازت سے مسجد کے چندہ سے بقیہ تنخواہ وصول کی جاسکتی ہے اور کمیٹی والوں پر اپنے امام کی پوری تنخواہ دینا  لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84870کی تصدیق کریں
0     277
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات