میں نے اپنی بیٹی کو اس وقت گود لیا تھا جب وہ ایک دن کی تھی، اور اب وہ 23 سال کی ہے۔ آج تک ہم نے یہ بات ظاہر نہیں کی کہ وہ گود لی ہوئی ہے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کی شادی سے پہلے ہمیں یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ وہ گود لی ہوئی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کسی بچے کو کو گود لینا (کفالت کرنا) باعثِ ثواب ہے، لیکن شرعاً وہ بچہ حقیقی اولاد نہیں بنتا۔ نسب، حقِ پرورش، ولایتِ نکاح اور میراث وغیرہ کے تمام احکام اس کے اصل والدین سے متعلق رہتے ہیں ۔
لہٰذا ،صورتِ مسئولہ میں اس لے پالک لڑکی کا نکاح اس کے حقیقی باپ کے نام سے کرانا ضروری ہے۔ سائل کانکاح کے وقت اس کے حقیقی والدکی شناخت کوظاہرنہ کرنااور حقیقت چھپانا شرعاً درست نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔اسی طرح اگر اس لڑکی کے والد حیات ہوں تو نکاح کی ولایت بھی انہی کو حاصل ہوگی، البتہ اگر وہ اپنی خوشی اوررضامندی سے سائل کونکاح کی اجازت دے دیں تو وہ بطورِ وکیل نکاح کرا سکتے ہیں۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل ﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذٰلِكُم قَولُكُم بِأَفوٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَوٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿٥﴾ [الأحزاب:4و5]
کما فی مسند أحمد : عن عائشة أن أبا حذيفة تبنى سالما - وهو مولى لامرأة من الأنصار - كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس ابنه، وورث من ميراثه، حتى أنزل الله عز وجل: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم} [الأحزاب: 5] فردوا إلى آبائهم، فمن لم يعلم له أب، فمولى وأخ في الدين، فجاءت سهلة فقالت: يا رسول الله، كنا نرى سالما ولدا، يأوي معي ومع أبي حذيفة، ويراني فضلا، وقد أنزل الله عز وجل فيهم ما قد علمت؟ فقال: " أرضعيه خمس رضعات ". فكان بمنزلة ولده من الرضاعة. (42/ 435 ط الرسالة)