کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پچھلے قریب 12 سال سے جرمنی میں مقیم ہوں، میرے 2 بچے ہیں، میرے شوہر نے کل مجھے کورٹ لیٹر کے ذریعے طلاق دی ہے، جو کہ انہوں نے 9 جولائی کو سائن کی تھی، ان کے وکیل کے خط کے مطابق۔ جبکہ ہم لوگ پچھلے کچھ دنوں سے ایک ساتھ کسی دوسری جگہ رہ رہے تھے، اور ہمارے درمیان میاں بیوی کا تعلق بھی قائم تھا، لیکن مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا، نہ ہی انہوں نے مجھے یہ بات خود بتائی،اب کل، 7 اگست کو جب مجھے یہ لیٹر ملا تو میں فوراً واپس اپنے گھر آ گئی اور عدت کے بارے میں آن لائن سرچ کیا، لیکن مجھے اس میں الجھن ہے کہ شرعی حکم کیا ہے۔ چونکہ میں یہاں اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں اور کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہے، تو اگر مجھے کسی سلسلے میں باہر جانا ہو تو کیا میں جا سکتی ہوں؟ کیونکہ کورٹ لیٹر کے حوالے سے مجھے 2 ہفتے میں جواب دینا ہے، جس کے لیے وکیل کے پاس جانا ہوگا اور لوگوں سے رابطہ بھی کرنا ہوگا،براہِ کرم مجھے راہنمائی دیں کہ شرعی احکام کیا ہیں عدت اور طلاق کے تناظر میں، جو میرے کیس میں لاگو ہوتے ہوں۔
سائلہ نے سوال میں مذکور طلاق نامہ ارسال نہیں کیا ،تاکہ اس میں درج تحریر کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر مذکور طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہوں تو ایسی صورت میں سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے جبکہ سائلہ کے شوہر کا سائلہ کو صورت حال سے لاعلم رکھتے ہوئے اپنے ساتھ ازدواجی حیثیت میں رکھنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا ناجائز و حرام اور کبیرہ گناہ تھا،جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار کے ساتھ آئندہ اس طرح کے اعمال سے اجتناب لازم ہے،تاہم سائلہ کے شوہر نے طلاق کے بعد بیوی کے ساتھ ہمبستری حلال سمجھ کر کی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کی عدت آخری بار ہمبستری کرنے سے شمار ہوگی ، اور سائلہ پر لازم ہے کہ وہ احکام عدت کی پابندی کرے ،اور عدت مکمل ہونے تک بلاضرورت گھر سے نہ نکلے ،البتہ اگر قانونی معاملات اور گھر کے دیگر امور حل کرنے کیلئے سائلہ کے علاوہ کوئی اور موجود نہ ہویا سائلہ کا از خود حاضر ہونا ضروری ہو تو دن کے اوقات میں سائلہ گھر سے باہر نکل سکتی ہے،جبکہ رات گھر میں گزارنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار:(والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء، وللموطوءة بشبهة أن تقيم مع زوجها الأول وتخرج بإذنه في العدة؛ لقيام النكاح بينهما، إنما حرم الوطء حتى تلزمه نفقتها وكسوتها، بحر، يعني إذا لم تكن عالمةً راضيةً كما سيجيء ... (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا، والمرئي) من الحيض (منها، و) عليها أن (تتم) العدة (الثانية إن تمت الأولى) وكذا لو بالأشهر، أو بهما لو معتدة وفاة (کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج:3،ص:518،ط:ایچ ایم سعید)
و فی الدرالمحتار تحت : (قوله: بشبهة) متعلق بقوله: وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال: ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالماً بحرمتها لاتجب عدة أخرى؛ لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثًا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لاتستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرًا طلاقها لاتنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل. وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال، ثم وطئها في العدة عالمًا بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لايقع فيها طلاق آخر ولاتجب فيها نفقة اهـ وما قاله الصدر هو ظاهر(ایضا)
و فی الدرالمختار:(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه(کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج:3،ص:536،ط:ایچ ایم سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0