السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بڑے بھائی زید کے اپنے بیوی بچوں سے تعلقات اچھے نہ تھے بھائی اپنی فیملی کو خرچ دینے میں اکثر جھگڑا کرتا تھا، حالانکہ بھائی کی آمدنی بہت اچھی تھی دو بیٹے بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ان کو بھی بس کا کرایہ اور خرچہ کم سے کم دیتا تھا، میں اور میرے دو چھوٹے بھائی ایک ساتھ رہائش پذیر تھے اور ہم تینوں کا کاروبار بھی ایک تھا، بڑا بھائی زید ہم سے دور رہتا تھا، اور ہمارا اس کے گھر آنا جانا بھی کوئی خاص نہ تھا ایک دن اچانک بھائی نے ہم کو فون کیا کہ میری فیملی نے مجھے ایک کمرے میں بند کردیا ہے اور مجھے ہراساں کر رہے ہیں ، میں خطرے میں ہوں فوری میری مدد کو آؤ،زید نے ایک مکان خرید کر اپنی بیوی کے نام کیا ہوا تھا، جس میں یہ رہائش پذیر تھے جب بیوی سے تعلقات بگڑنے لگے تو سب بھائی ان کے دھوکہ دہی سے بیوی کو کورٹ لے جا کر اس مکان کا پاور اپنے نام حاصل کرلیا،پھر یہ مکان فرضی طور پر میرے چھوٹے بھائی کو فروخت کردیا پھر بڑا بھائی اس مکان میں فرضی طور پر کرایہ دار بن گیا اور کرایہ نہ دینے پر ڈیفالٹر ہوگیا۔
پھر چھوٹا بھائی جو اس مکان کا فرضی مالک تھا بڑے بھائی پر کیس کر کے ملی بھگت سے مکان خالی کر کے عدالت میں سے ڈگری حاصل کر لی زید اور پولیس اور میرے دو چھوٹے بھائی اپنے دودوستوں کو لے کر بڑے بھائی کے ساتھ مکان خالی کرانے گئے، میرے چھوٹے بھائی دروازہ توڑنے کے لئے اوزار بھی ساتھ لے کر گیا اور کاروائی کر کے بیوی بچوں کو زبردستی مکان سے بے دخل کردیا اس طرح بڑے بھائی کی فیملی دربدر ہوئی۔
مفتی صاحب اس ساری کاروائی میں بڑے بھائی نے ہم تین چھوٹے بھائیوں کو تصویر کا بہت زیادہ غلط رخ دکھا کر میرے دو چھوٹے بھائیوں کو استعمال کیا اور ہم بھائیوں نے خونی رشتے کی وجہ سے بلا سوچے سمجھے غیر ضروری ساتھ دیا جس کا ہمیں بعد میں احساس ہوا تو ہم تینوں بھائیوں اور ہماری بہنوں نے اس پر بہت دباؤ ڈالا کہ تو ان کو مکا ن دلا کر دے مگر بھائی نہ مانا۔
اس کے بعد بچوں کے مدرسے کے مہتمم نے بھائی کو بلایا بھائی مجھے بھی ساتھ لے کر گیا مہتمم نے ان کی بیوی کو بھی بلایا اور سارا معاملہ سن کر یہ فیصلہ کیا کہ آپ نے ان سے یہ مکان غلط خالی کرایا اب آپ ان کو اس مکان کی آدھی قیمت 18 لاکھ روپے کی رقم ان کو دے دو تاکہ یہ اپنی رہائش وغیرہ کا بندوبست کر سکیں ایک کاغذ پرسارا فیصلہ لکھا گیا بھائی نے 18 لاکھ روپے دینے کا حلفیہ وعدہ کیا اور دستخط کیے لیکن بڑا بھائی اس سے بعد میں مکر گیا، ہم نے اس کو بہت سمجھایا مگر اس نے رقم دینے سے انکار کردیا کیونکہ اس کے اندر ماں کی محبت غالب رہی۔
ماہانہ بیٹی کے خرچے دینے کا طے ہوا وہ بھی اس نے نہیں دیے پھر اس نے بیوی کو طلاق دے دی، پھر اس نے اس دوران ہمارے قریب ہی ایک مکان خرید کر اس مکان کا پاور آف اتھارٹی میرے نام پر لیا اور مکان اب تک میرے نام پاور ہے ، اب بڑا بھائی اس مکان میں اپنی دوسری بیوی اور دس سالہ بیٹے کے ساتھ رہتا ہے اب بھائی یہ چاہتا ہے کہ یہ مکان میں اپنی دوسری بیوی اور بچہ کے نام کردوں تو میں نے کہا ٹھیک ہے یہ مکان میں دوسری بیوی بچے کے نام کردیتا ہوں ، لیکن تو اپنے پہلے والے بچوں کو مکان دلادے کیونکہ تیری بیٹی کی عمر 23 سال ہوگئی ہے اس کی شادی کی عمر نکلی جارہی ہے دونوں بیٹوں کے پاس گھر بھی نہیں ہے ، ہمارے رشتہ دار اور مسجد کے لوگ ہم کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ بھائیوں نے اس کا ناجائز ساتھ دیا اور بچوں سے ان کی چھت چین لی اور آپ لوگوں نے بہت بوجھ لیا ہوا ہے آپ ان بچوں کا حق دلاؤ ہم بھائی بھی اپنی غلطی کا مداوا کرنا چاہتے ہیں، لیکن بڑا بھائی یہ کہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد ان کو مل جائے گا، آیا بڑے بھائی کا یہ موقف صحیح ہے بھائی اچھی حیثیت کا مالک اور صاحب جائیداد ہے، بھائی کے بچوں نے گھر کی وجہ سے اس پر کیس کیا ہوا ہے، کچھ عرصہ قبل بھائی کا اصرار تھا کہ بیٹے کیس ختم کریں تو میں گھر دلا دوں گا، مگر بچے کیس ختم کرنے پر راضی نہ تھے مگر اب ہم نے بیٹوں کو راضی کروالیا ہے کہ کیس ختم کردینگے مگر بھائی پھر بھی گھر دلانے پر راضی نہیں ہو رہا، آیا اس مکان کو اس کی دوسری فیملی کے نام کرنے سے روک کے رکھنا ہے،؟آیا اب ہم چھوٹے بھائی کیا موقف اختیار کریں؟ کیونکہ ہم نے اس کے ظلم پر اس کی معاونت کی ہے، اس کی تلافی کے لئے ہم کیا طرزِ عمل اختیار کریں؟
جب سائل کے بھائی نے مذکور مکان اپنی بیوی کے لئے خرید کر اس کے نام کردیا تھا،تو وہ تنہا اسی کی ملک ہوگیا تھا، اس کے بعد زبردستی اس کو بے دخل کرنا اور دھوکہ دہی سے اپنے نام کرانا درست نہیں تھا ، تاہم جب اس نے مکان کی رقم دینے کا حلفیہ وعدہ کرلیا ہے تو اسے چاہیئے کہ حسبِ وعدہ اسے مکان دلاکر مؤاخذۂ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، جبکہ مرحوم کی پہلی بیوی کی اولاد کو بھی چاہئیے کہ اپنے والد پر کیس ختم کر کے اس کی دل آزاری سے اجتناب کریں اور اپنے اس عمل پر اس سے دست بستہ معافی بھی مانگیں۔
کما فی الدر المختار: (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم)الخ (5/688)۔
و فی ردالمحتار : تحت (قوله: هو الإيجاب) وفي خزانة الفتاوى:(الی قولہ) قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء،(الی قولہ) ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها الخ (5/688)۔
وفی النتف فی الفتاوی: موانع الرجوع فی الھبۃ، والعاشر ھبۃ المرأۃ لزوجھا وھبۃ الزوج لامرأتہ الخ (313)۔