گناہ و ناجائز

اپنے بزنس کیلئے فیک ریویو لکھوانا

فتوی نمبر :
85192
| تاریخ :
2025-08-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اپنے بزنس کیلئے فیک ریویو لکھوانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! محترم و مکرم مفتی صاحب حفظہ اللہ ، امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے، آج کل آنلائن بزنس میں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے جعلی ریویوز لکھوائے جاتے ہیں تاکہ گاہک متاثر ہو کر خریدے۔ کیا شرعاً اس طرح کا جھوٹا ریویو دینا یا لکھوانا جائز ہے ؟ براہِ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیراً والسلام ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بھی کاروبار خواہ وہ آنلائن ہو یا فزیکلی طور پر کیا جاتا ہو اس میں گاہک کو متاثر کرنے کے لیےاس طرح کے جعلی ریویوز اور جھوٹے تبصرے اور تعریفیں لکھوانا یا کسی کے لیے جھوٹے ریویوز دینا یا تبصرے لکھنا دھوکہ دہی کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہیں جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری : عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تناجشوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا) اھ (باب:يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم ولا تجسسوا، ج 5، ص 2253، ط دار ابن کثیر دار الیمامۃ دمشق )-
وفی صحیح مسلم : أن أبا هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ‌لا ‌تناجشوا، ولا يبع المرء على بيع أخيه، ولا يبع حاضر لباد، ولا يخطب المرء على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق الأخرى لتكتفئ ما في إنائها اھ (‌‌باب تحريم الخطبة على خطبة أخيه حتى يأذن أو يترك، ج4، ص 138، ط دار الطباعۃ العامرۃ )-
و فی درر الأحکام شرح غرر الأحکام : . (و) كره (النجش) وهو أن يزيد في الثمن ليرغب غيره ولا يزيد الشراء لقوله صلى الله عليه وسلم ‌لا ‌تناجشوا اھ ( بیع النجش، ج 2، ص 177، ط دار احیاء الکتب العربیۃ )-
وفی الھدایۃ : قال: "ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النجش" وهو أن يزيد في الثمن ولا يريد الشراء ليرغب غيره وقال: "‌لا ‌تناجشوا" اھ (‌‌فصل: فيما يكره، ج 3، ص 53، ط دار احیاء التراث العربی )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85192کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات