گناہ و ناجائز

سکول کی اسلامیات کی کتاب میں کچھ نصابی غلطیوں کی نشاندہی کرنا

فتوی نمبر :
85230
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سکول کی اسلامیات کی کتاب میں کچھ نصابی غلطیوں کی نشاندہی کرنا

حضرات مفتیانِ کرام دامت فیوضکم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
بعد از سلام عرض ہے کہ بندہ شہر کراچی کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی سے فاضل ہے، فراغت کے بعد بندہ ایک دینی ادارے میں تدریس کے ساتھ ایک اسکول میں معلِّم کے فرائض بھی سر انجام دے رہا ہے، اسکول میں اسلامیات کے تمام اسباق بندہ کے زیر نگرانی پڑھائے جاتے ہیں، ہمارے اسکول میں اسلامیات کا جو نصاب داخل ہے، وہ ( c, r, i ) یعنی ایجو کیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا مرتب کر دہ ہے ،بندہ نے اس نصاب میں کچھ غلطیاں دیکھیں ،اور اپنے اسکول کے سربراہ کو ان اغلاط کی طرف متوجہ کیا، جنہوں نے اس ادارے کے ذمہ داران کو ان غلطیوں کی طرف بالمشافہ ملاقات میں متوجہ کیا، لیکن نو سال گزر چکے ، ہر سال نیا ایڈیشن شائع ہوتا ہے، لیکن ان غلطیوں کی اصلاح نہ ہو سکی۔ چنانچہ اس بات پر مجبور ہوئے کہ شرعی طور پر فتویٰ لے کر اس ادارے کی طرف بھیجا جا سکے، کیونکہ شہر کراچی کے کئی اسکولوں میں یہ نصاب شامل ہے۔
بندہ ان غلطیوں پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہے تا کہ آپ حضرات ان اغلاط کی طرف شرعی رہنمائی فرمائیں کہ :
(1) کیا ان اغلاط کی تصحیح ہونی چاہیئے یا نہیں؟
(2) کیا اسکول میں بچوں کے نصاب میں ایسی غلطیوں کی گنجائش ہے یا نہیں؟
(3) اگر ادارے کے افراد ایسی غلطیوں کی اصلاح نہ کریں تو ان کا کیا حکم ہے؟
( 4) اگر ان غلطیوں کی تصحیح جان بوجھ کر نہیں کی جائے تو کیا اس نصاب کو اسکول میں داخل کرنا صحیح ہو گا یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱، ۲) :سوال کے ساتھ منسلکہ اوراق کو بغور پڑھا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ان نصابی کتب میں واقعی اغلاط ہیں، مثلاً:
اسلامیات کی درجہ پنجم کی کتاب کے صفحہ نمبر (78) پر آدم علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’یہ اس نافرمانی کی سزا تھی جو ان سے سرزد ہوئی تھی‘‘ یہ سب دیکھ کر شیطان اپنی کامیابی پر بہت خوش ہوا ،اور غائب ہو گیا۔
حالانکہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں ، ان سے کسی قسم کی نافرمانی اور گناہ سرزد نہیں ہوا۔
اسی طرح اسلامیات کی درجہ ہشتم کی کتاب کے صفحہ نمبر (105) پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا تذکرہ کر کے ذیل میں لکھا ہے :
’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فطرتاً نرم مزاج تھے، اس لئے معمولی بد عنوانیوں سے چشم پوشی کرتے تھے ‘‘۔
خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ الفاظ کے بارے میں اس قسم کا تاثر درست نہیں۔
اس کے علاوہ صحابی رسول عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی نامناسب عبارات درج ہیں، اور خطبہ جمعہ کے متعلق متفق علیہ مؤقف کے خلاف حکم ذکر کیا گیا ہے ، اسی طرح بعض دیگر امور میں مشہور اور جمہور کے قول کے خلاف غیر معروف اقوال ذکر کیے گئے ہیں ، جو " نظریۂ پاکستان" کے ساتھ متصادم ہونے کے علاوہ خصوصاً بچوں کے لئے انتہائی نقصان دہ اور منفی اثرات پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ لہذا قانون و شریعت دونوں کے خلاف ہونے کی بناء پر ان اغلاط کی گنجائش نہیں، بلکہ مذکور نصاب میں موجود ان تمام غلطیوں کی درستگی کر کے اس پر علماء کی نگرانی میں از سر نو غور وفکر کی ضرورت ہے۔
(۳، ۴) تعلیم اور نصابی کمیٹی کے ارکان کو چاہیئے کہ نصابی کتابوں پر خصوصی توجہ دیں، اگر غلطیوں سے آگہی کے باوجود بھی وہ ان کی اصلاح نہ کریں تو وہ شرعا گناہ گار ہونے کے علاوہ قومی مجرم بھی ہوں گے ، اور اس قسم کی غلطیوں پر مشتمل کتابوں کا داخل نصاب رکھنا بھی درست نہیں رہے گا۔ واللہ تعالی اعلم

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الأكبر :والأنبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزهون عن الصغائر والكبائر والكفر والقبائح وقد كانت منهم زلات وخطايا اھ (ص :37)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85230کی تصدیق کریں
0     588
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات