گناہ و ناجائز

ناقابل واپسی فیس کی شرط لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
85337
| تاریخ :
2025-08-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ناقابل واپسی فیس کی شرط لگانے کا حکم

کیاا سکول والوں کے لئے ” نان ریفنڈیبل فیس“ (ناقابلِ واپسی) لینا جائز ہے ؟کیا اسکول چھوڑنے پر والدین ” ایڈمیشن فیس “ کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ٍواضح رہے کہ مطلقاً داخلہ فیس جو ناقابلِ واپسی ہو اس کی شرعی لحاظ سے کوئی توجیہ یا سبب نہیں بنتا کہ جس کی وجہ سے اسے جائز کہا جائے ۔ البتہ اگر داخلے کے ایّام میں امورِ داخلہ پر واقعی اخراجات ہوتے ہوں ( مثلاً آلات و اسباب یا عملے کی اضافی ڈیوٹی کے اخراجات وغیرہ)تو اس کا حساب برابر کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ ابتداء میں ہی داخلہ کے خواہشمند حضرات کو بتادیا جائے کہ داخلہ مکمل ہونے کی صورت میں پہلی ماہانہ فیس یا ابتدائی دس دنوں کی فیس مثلاً دس ہزار ہوگی یعنی مطلوبہ داخلہ فیس کی مقدار کو تعلیمی فیس میں شمار کیا جائے اور اس کے بعد کی ماہانہ فیس الگ بتائی جائے مثلاًپانچ ہزار ،چنانچہ اس طریقۂ کار کے مطابق معاملات طے کرنے کی صورت میں ایڈمیشن فیس شرعاً بھی ناقابلِ واپسی بن جائے گی جس کے واپسی کے مطالبے کا حق ا سکول چھوڑنے کی صورت میں بھی نہیں رہے گا۔جبکہ جن درخواست دہندگان کاداخلہ نہیں ہوجاتا تو انہیں ایڈمیشن فیس واپس کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحرالرائق: لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي ۔( فصل في التعزير ج:5، ص:44، دار الکتب العلمیة)۔
و فی الدر المختار:(يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) ‌والمحاضر ‌والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى؛ لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذا الكف أولى احترازا عن القيل والقال وصيانة لماء الوجه عن الابتذال بزازية،الخ (مطلب فی اجارۃ المستاجر للموجر ج6 ص92 ط: دار الفکر بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85337کی تصدیق کریں
0     25
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات