السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پاکستان میں ایک کمپنی " پاک قطر فیملی تکافل" کے نام سے کام کر رہی ہے، جس کا دعوی ہے کہ یہ ایک اسلامک کمپنی ہے جو روایتی انشورنس کا اسلامک متبادل ہے، کیونکہ روایتی انشورنس میں ربا قمار اور غرر جیسی برائیاں پائی جاتی ہے، جبکہ اس کمپنی میں ان برائیوں سے چھٹکار کے لئے ایک شریعہ بورڈ موجود ہے ، جس کے چئیرمین حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب ہے، یہ شریعیہ بورڈ کمپنی کے تمام معاملات کی نگرانی کرتاہے، اس لئے یہ کمپنی اسلامی اصولوں کے عین مطابق کام کر رہی ہے، حضرت مفتی صاحب، کیا اس کمپنی میں ملازمت کرنا یا پھر تکافل (انشورنس) کرانا شرعاً جائز ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، جبکہ دارالعلوم کراچی سے مجھے موصولہ جواب کے مطابق اس کمپنی کے ساتھ معاملہ کو درست قرار دیا ہے۔
پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کا طریقہ کار ربا اور قمار وغیرہ سے پاک اور شرعی اصولوں کے مطابق ہے اس لئے اس میں کام کرنے اورتنخواہ لینے ، تکافل کرانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، بلکہ جائز اور درست ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0