گناہ و ناجائز

باہمی رضامندی سے کی ہوئی تقسیم پر بعد میں اعتراض کرنا

فتوی نمبر :
85353
| تاریخ :
2025-08-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

باہمی رضامندی سے کی ہوئی تقسیم پر بعد میں اعتراض کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں آپ کی خدمت میں ایک خاندانی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی کے لیے رجوع کر رہا ہوں۔،براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔صورت حال درج ذیل ہے:
تین بھائیوں (ہمارے والد مرحوم اور ان کے دونوں بھائی ثناء پیر اور ربنواز) کے درمیان تقریباً 25 سال قبل زمین کی باہمی رضامندی سے تقسیم ہوئی، جس پر سب نے اتفاق کیا، اور کسی قسم کے ناپ تول یا جھگڑے کے بغیر، ہر ایک نے اپنے حصے کو پہچاننے کے لیے دیوار یا پتھر کی مدد سے نشان لگا کر اسے استعمال میں لایا،اس تقسیم کے بعد تمام بھائی اپنے اپنے حصے کو استعمال کرتے رہے، ہمارے والد مرحوم اپنے حصہ پر تا وفات کاشت کاری اور دیگر قسم کی آبادی کرتے رہے، اور ان کی وفات 2017ء میں ہوئی، ان کی زندگی میں کبھی کسی بھائی نے اعتراض نہیں کیا، اب جب کہ ان کے انتقال کو ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں، اب میرا ایک چچااعتراض کر رہا ہے کہ شاید زمین کی مقدار میں فرق ہو گیا ہے، اور تقسیم پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ تقسیم مکمل رضامندی سے ہوئی،زمین کے نشان واضح تھے،والد محترم اور ان کے بعد ہم مسلسل اپنے حصے کو استعمال کرتے رہے ہیں (قانونی قبضہ)،25 سال تک کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیاسوال یہ ہے کہ:
1. کیا شرعی طور پر اتنی پرانی اور باہمی رضا مندی سے ہونے والی تقسیم کو اب چیلنج کرنا درست ہے؟
2. کیا ہمارے والد کا مستقل استعمال اور قبضہ اس زمین کو ان کا شرعی حق ثابت کرتا ہے؟
3. کیا ان کی وفات کے بعد ان کا حصہ شرعی طور پر ان کے ورثاء کا حق شمار ہوگا؟ہم صلح، انصاف اور شریعت کی روشنی میں فیصلہ چاہتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور تقسیم اگرکسی وارث کو محروم کیے بغیر ورثاء کے باہمی رضامندی سے اور غبنِ فاحش (ناقابلِ تحمل کمی یا زیادتی ) کے بغیر ہوئی تھی تو اب کسی وارث کو اس تقسیم پر اعتراض کرنے یا دوبارہ تقسیم کے مطالبے کا حق نہیں، لہذا مذکور زمین اگر سائل کے دادا اور دادی کا ترکہ ہو اور ان کے ورثاء میں فقط یہ تین بیٹے ہوں ان کے علاوہ کوئی اور وارث بیٹی وغیرہ موجود نہ ہو، تو مذکورہ تین بھائیوں(سائل کے والد مرحوم اور ان کے دونوں بھائی) کا باہمی رضامندی اور عدل و انصاف سے مذکورہ زمین تقسیم کرکے قرعہ اندازی یا باہمی رضامندی سے اپنے اپنے حصہ پر قبضہ کرنے کے بعد ہر ایک نے اپنے حصہ کے حدود متعین کرکے استعمال کرتے رہے ہوں ،تو ایسی صورت میں اس باہمی رضامندی کے بعد 25 سال تک اس تقسیم پر خاموش رہنااور اپنے حصہ کو استعمال کرتے رہناتقسیم پر رضامند ہونے پر دلالت کرتا ہے ،سےتقسیم کے بعد سائل کے چچا کا تقسیم کے عمل پر سوال اٹھانا اور دوبارہ اس کی تقسیم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ ہر ایک کی طرح سائل و دیگر ورثاء بھی اپنے والد کے حصہ کے شرعی حقدار و مالک ہوں گے،البتہ اگراس تقسیم میں اس وقت کے حساب سےبھی واقعۃً ناقابلِ تحمل کمی ،زیادتی ہوئی ہو تو سائل کے چچا کا اس تقسیم پر اعتراض کرنے اور دوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرنے کی گنجائش ہوگی،لیکن اس وقت کی برابری کے بعد موجودہ وقت کے حساب سے قیمت کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے فرق کی بنیاد پر از سرِ نو تقسیم کا مطالبہ شرعاً جائز نہ ہوگا،اس لئے سائل کے چچا کو اپنے اس غیر شرعی مطالبہ سے احتراز لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: يجب أن يعلم بأن الملك لا يقع لواحد من الشركاء في سهم بعينه بنفس القسمة بل يتوقف ذلك على أحد معان أربعة: إما القبض أو قضاء القاضي أو القرعة أو بأن يوكلوا رجلا يلزم كل واحد منهم سهما كذا في الذخيرة (إلی قولہ) ‌وإن ‌كانت ‌الدار ‌بين ‌رجلين ‌فاقتسما على أن يأخذ أحدهما الثلث من مؤخرها بجميع حقه ويأخذ الآخر الثلثين من مقدمها بجميع حقه فلكل واحد منهما أن يرجع عن ذلك ما لم تقع الحدود بينهما ولا يعتبر رضاهما بما قالا قبل وقوع الحدود وإنما يعتبر رضاهما بعد وقوع الحدود كذا في الذخيرة إلخ(کتاب القسمۃ، الباب الخامس في الرجوع عن القسمة إلخ، ج: 5، ص: 217، ط: ماجدیۃ)۔
وفی درر الأحکام فی شرح مجلۃ الأحکام: يلزم أن تكون القسمة عادلة أي أن تعدل الحصص بحسب الاستحقاق وأن لا تكون بإحداها نقصان فاحش فلذلك تسمع دعوى ‌الغبن ‌الفاحش ‌في ‌القسمة. ولكن إذا ادعى المقسوم لهم الغبن الفاحش بعد إقرارهم باستيفاء الحق لا تسمع دعواهم، يلزم أن تكون القسمة عادلة سواء كانت القسمة رضاء أو قضاء أو كان المقسوم مال شركة أو مالا آخر أي أن تعدل الحصص بحسب الاستحقاق وأن لا يكون بإحداها نقصان فاحش فلذلك تسمع في القسمة دعوى الغبن الفاحش إلخ(باب فی بیان القسمۃ، المادۃ: 1126، ج: 3، ص: 119، ط: دار الجیل)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما صفات القسمة فأنواع: منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه؛ (إلی قولہ) ‌ومنها ‌اللزوم ‌بعد ‌تمامها ‌في ‌النوعين ‌جميعا، حتى لا يحتمل الرجوع عنها إذا تمت، إلخ(کتاب القسمۃ، فصل فی صفات القسمۃ، ج: 7، ص: 26۔28، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85353کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات