سود

نقد اور ادھار کے لیے الگ الگ قیمت متعین کرنا

فتوی نمبر :
85365
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / سود

نقد اور ادھار کے لیے الگ الگ قیمت متعین کرنا

کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کھاد ڈیلر کے پاس جاتا ہے، کہ مجھے ادھار کھاد دیدیں، میں گندم کی کٹائی پر قیمت ادا کرونگا، آگے کھاد ڈیلر شرط لگاتا ہے کہ کھاد اس وقت دونگا کہ آپ اپنی گندم مجھے فروخت کریں گے ورنہ نہیں،اب کیا حکم ہے؟ ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتے وقت مشتری کو کہتا ہے کہ یہ چیز نقد دس ہزار کی ہے اور ادھار خریدتے وقت پندرہ ہزار کی ہوگی، وقت معین کرتا ہے مدت بھی اب کیا حکم ہے؟ راجح قول کیا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور طریقہ کار کے موافق معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس معاملہ کو جائز طریقہ کے موافق کرنا بھی ممکن ہے وہ اس طور پر کہ مثلاایک، دو ماہ کی مدت متعین کر کے ادھار پر معاملہ کریں اور پھر وقت مقررہ پر بائع کو اس کے سامان کی پوری رقم طے شدہ ترتیب کے موافق لوٹا دی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایہ: ولا يجوز البيع إلى قدوم الحاج"، وكذلك إلى الحصاد والدياس والقطاف والجزاز؛ لأنها تتقدم وتتأخر، ولو كفل إلى هذه الأوقات جاز؛( الی قولہ) بخلاف البيع فإنه لا يحتملها في أصل الثمن، فكذا في وصفه، بخلاف ما إذا باع مطلقا ثم أجل الثمن إلى هذه الأوقات حيث جاز؛ لأن هذا تأجيل في الدين وهذه الجهالة فيه متحملة بمنزلة الكفالة، ولا كذلك اشتراطه في أصل العقد؛ لأنه يبطل بالشرط الفاسد. "الخ (3/50)۔
و فی الدرالمختار: لا (إلى قدوم الحاج والحصاد) للزرع (والدياس) للحب (والقطاف) للعنب؛ لأنها تتقدم وتتأخر. (ولو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين، أما تأجيل المبيع أو الثمن العيني فمفسد ولو إلى معلوم شمني (إليها صح) التأجيل الخ (5/82)۔
و فی المبسوط: قال: وإذا اشتراه على أن يقرض له قرضا أو يهب له هبة أو يتصدق عليه بصدقة أو على أن يبيعه بكذا وكذا من الثمن فالبيع في جميع ذلك فاسد لنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن بيع وسلف وعن بيعتين في بيعة الخ (13/16)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 85365کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات