کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کھاد ڈیلر کے پاس جاتا ہے، کہ مجھے ادھار کھاد دیدیں، میں گندم کی کٹائی پر قیمت ادا کرونگا، آگے کھاد ڈیلر شرط لگاتا ہے کہ کھاد اس وقت دونگا کہ آپ اپنی گندم مجھے فروخت کریں گے ورنہ نہیں،اب کیا حکم ہے؟ ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتے وقت مشتری کو کہتا ہے کہ یہ چیز نقد دس ہزار کی ہے اور ادھار خریدتے وقت پندرہ ہزار کی ہوگی، وقت معین کرتا ہے مدت بھی اب کیا حکم ہے؟ راجح قول کیا ہے۔
سوال میں مذکور طریقہ کار کے موافق معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس معاملہ کو جائز طریقہ کے موافق کرنا بھی ممکن ہے وہ اس طور پر کہ مثلاایک، دو ماہ کی مدت متعین کر کے ادھار پر معاملہ کریں اور پھر وقت مقررہ پر بائع کو اس کے سامان کی پوری رقم طے شدہ ترتیب کے موافق لوٹا دی جائے۔
کما فی الھدایہ: ولا يجوز البيع إلى قدوم الحاج"، وكذلك إلى الحصاد والدياس والقطاف والجزاز؛ لأنها تتقدم وتتأخر، ولو كفل إلى هذه الأوقات جاز؛( الی قولہ) بخلاف البيع فإنه لا يحتملها في أصل الثمن، فكذا في وصفه، بخلاف ما إذا باع مطلقا ثم أجل الثمن إلى هذه الأوقات حيث جاز؛ لأن هذا تأجيل في الدين وهذه الجهالة فيه متحملة بمنزلة الكفالة، ولا كذلك اشتراطه في أصل العقد؛ لأنه يبطل بالشرط الفاسد. "الخ (3/50)۔
و فی الدرالمختار: لا (إلى قدوم الحاج والحصاد) للزرع (والدياس) للحب (والقطاف) للعنب؛ لأنها تتقدم وتتأخر. (ولو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين، أما تأجيل المبيع أو الثمن العيني فمفسد ولو إلى معلوم شمني (إليها صح) التأجيل الخ (5/82)۔
و فی المبسوط: قال: وإذا اشتراه على أن يقرض له قرضا أو يهب له هبة أو يتصدق عليه بصدقة أو على أن يبيعه بكذا وكذا من الثمن فالبيع في جميع ذلك فاسد لنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن بيع وسلف وعن بيعتين في بيعة الخ (13/16)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1