گناہ و ناجائز

کمپنی کو اپنا انجینئیرنگ کا لائسنس دے کر اس سے پیسے لینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
85416
| تاریخ :
2025-08-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کو اپنا انجینئیرنگ کا لائسنس دے کر اس سے پیسے لینا جائز ہے؟

میں ایک سول انجینئر ہوں اور پاکستان انجینئرنگ کونسل میں رجسٹرڈ ہوں۔میرے پاس اپنی انجینئرنگ کا لائسنس ہے۔ مختلف کمپنیاں یہ لائسنس مجھ سے لینا چاہتی ہیں اور اس کے بدلے میں مجھے کچھ پیسے دیتی ہیں، چاہے 6 مہینے کے لیے یا 1 سال کے لیے۔ان کے پاس کنسٹرکشن کمپنی ہوتی ہے اور انہیں ایک انجینئر کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے وہ میری رجسٹریشن اپنے پاس لیتے ہیں۔ لیکن میں اس کمپنی میں کام نہیں کرتا، صرف اپنا لائسنس ان کو دے دیتا ہوں اور اس کے بدلے وہ مجھے پیسے دیتے ہیں۔انہیں اپنی کمپنی کے لیے ایک رجسٹرڈ انجینئر چاہیے ہوتا ہے، اسی وجہ سے وہ میرا لائسنس خریدتے ہیں۔کیا میرے لیے یہ پیسہ حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ڈگری اور لائسنس ایک تصدیق اور اجازت نامہ ہوتاہے، جو حکومت کی طرف سے متعلقہ شخص کو مطلوبہ تعلیم پر مشتمل کورس کی تکمیل کے بعد دیا جاتا ہے ، اور اس کا استعمال قانوناً بھی اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل چونکہ کسی کمپنی میں جاب / نوکری نہیں کرتا، بلکہ اپنا لائسنس اس کمپنی کو کچھ مدت (چھ ماہ یا سال ) کیلئے دیتا ہے اور ایسا کرنا چونکہ قانوناً ممنوع ہے، اس لئے شرعاً بھی ایسا کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کے عوض فیس لینا درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح للمسلم: عن إسماعيل بن جعفر . قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل قال: أخبرني العلاء ، عن أبيه ، عن أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌مر ‌على ‌صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني » ( رقم الحدیث 102، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم " من غشنا فليس منا، ج: 1،ص: 99، ط: دار أحیاء التراث العربی)۔
وفی فقه البیوع: وبما أن الحصول علی ھذہ الرخصة من الحکومة یتطلب کلاً من الجھد و الوقت والمال وإن لھذۃ الرخصة صفة قانونیة (إلی قوله) ولكن كل ذلك انما ياتي اذا كان في الحكومة قانون يسمح بنقل هذه الرخصة الى رجل آخر اما اذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة ولا يسمح القانون بنقلها الى رجل آخر أو شركة أخرى فلا شبهة فى عدم جواز بيعها لأن بيعها يؤدي حينئذ إلى الكذب والخديعة فان مشترى الرخصة يستعملها باسم البائع لا باسم نفسه فلا يحل ذلك الا بأن يوكل حامل الرخصة بالبيع والشراء الخ( بحث الترخیص التجاری، ج: 1، ص: 281، ط: معارف القرآن )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85416کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات