بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام دار العلوم دیوبند درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:
میری ملازمت ایک مدرسے میں ہے، میری ماہانہ تنخواہ اس وقت بارہ ہزار (12,000) روپے ہے۔ میری بیوی نے میرے اور میرے تمام اہل خانہ کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر مقدمہ درج کرایا ہے اور مزید غیر شرعی ملک کے قوانین کے مطابق مینٹیننس (نان و نفقہ) کا کیس بھی کر دیا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر مدرسہ کی انتظامیہ اور میں باہمی مشورے سے یہ طے کریں کہ میری باضابطہ تنخواہ چھ ہزار (6,000) روپے مقرر کر دی جائے اور باقی چھ ہزار (6,000) روپے مدرسہ کی طرف سے مجھے بطور "ہدیہ / تعاون" دیا جائے، تاکہ عدالت کے سامنے میری تنخواہ چھ ہزار ظاہر ہو—تو کیا ازروئے شرع ایسا کرنا جائز ہوگا یا یہ دھوکہ و ناجائز شمار ہوگا؟
اگر ناجائز ہے تو تو کیا کوئی اور شرعی طریقہ ہے؟
براہِ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کامدرسہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے مذکورحیلہ اختیارکرتے ہوئے اپنی اصل تنخواہ کوکم ظاہرکرناتاکہ عدالت گمراہ ہو، شرعاً ناجائز اور دھوکہ دہی پرمبنی عمل ہے،جس سے بہرصورت احترازلازم ہے ۔لہذا،سائل کے لیے بہتریہی ہے کہ عدالت میں اپنی اصل آمدنی اور شرعی طور پر اہل خانہ کے نفقہ کے حق کو تسلیم کریں،اگر مالی مشکلات درپیش ہوں توعدالت سے مہلت یا قابل برداشت قسطوں میں نفقہ دینے کی درخواست کریں۔
یہ حکم اس صورت میں ہے اگرسائل کی بیوی اس کے گھرمیں ہی رہائش پزیرہو،لیکن اگروہ جھگڑے کے بعدسائل کی اجازت ومرضی کےبغیرگھرسے چلی گئی ہوتو شرعاًوہ ناشزہ کے حکم میں شمارہوگی ،جس کانان نفقہ سائل پرلازم ہی نہ ہوگا۔
کما فی سنن الترمذي»:عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا»(4/ 348)
وفی الشامیۃ : ( لا ) نفقة لأحد عشر مرتدة و ( خارجة من بيته بغير حق ) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره
قوله ( بغير حق ) ذكر محترزه بقوله بخلاف ما لو خرجت الخ وكذا هو احتراز عما لو خرجت حتى يدفع لها المهر ولها الخروج في مواضع مرت في المهر وسيأتي بعضها عند قوله ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ۔ قوله (وهي الناشزة ) أي بالمعنى الشرعي أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له."( 576/3 ط: سعيد)