کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اس وقت مارکیٹ میں 90 فیصد مال چین اور دیگر سستے ممالک کا بنا ہوا ہے، ان میں سے اکثر پر ساخت جاپان ، برطانیہ ، جرمنی ،وغیرہ لکھا ہوتا ہے، اکثر پر اچھی کمپنیوں کا ہوبہو نام یا ایک آدھ حرف آگے پیچھے کر کے برانڈ نام لکھا ہوتاہے، اکثر تو سپلائزر ہمیں بتادیتے ہیں کہ نقل ہے،کچھ بتاتے ہیں کہ نقل نہیں ہے، مگر ہم اسے مشکوک سمجھتے ہیں، ان سامان کی قیمت بھی اصل کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، اور اکثر گاہک کو بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن سستا ہونے کی وجہ سے خریدتے ہیں، کیا اس قسم کانقلی سامان بیچنا جائز ہے؟ اس کے علاوہ کیا اس کا گاہک کو بتانا ہمارے لیے ضروری ہے، وگرنا کمائی حرام ہوگی؟ یا جب گاہک پوچھے کہ کونسا برانڈ ہے یا کونسے ملک کا بنا ہے، تب بتانا چاہیے یا اصل ہے کہ نقل؟
اگر مذکور نقلی اور کمزور مال کو اصلی بتا کر اصلی کی قیمت پر نہ بیچا جاتا ہو، بلکہ چیز دکھا کر اسی کی مناسب قیمت پر بیچا جاتا ہوں، تو یہ شرعاً جائز اور درست ہے، جبکہ خریداری کے وقت گاہک کو اس کی حقیقت نہ بتانا بلاشبہ دھوکہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامی: وأما التدليس بكتمان الحقيقة، وهو الصورة المشهورة في الفقه باسم (التدليس): فهو إخفاء عيب في أحد العوضين، كأن يكتم البائع عيباً في المبيع، (الی قولہ) وحكم هذا النوع: أنه حرام شرعاً باتفاق الفقهاء (1)، لقول النبي: «المسلم أخو المسلم، لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعاً، وفيه عيب، إلا بينه له» وقوله عليه السلام: «من غشنا فليس منا» (2). ويثبت فيه للمدلس عليه ما يعرف بخيار العيب: وهو إعطاؤه حق الخيار: إن شاء فسخ العقد، وإن شاء أمضاه. الخ (4/220)۔