والدین کے حقوق

والدین کا بیٹے پر اسکی مرضی کے خلاف شادی کا دباؤ ڈالنا

فتوی نمبر :
85483
| تاریخ :
2025-08-21
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / والدین کے حقوق

والدین کا بیٹے پر اسکی مرضی کے خلاف شادی کا دباؤ ڈالنا

السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! میری صورتِ حال یہ ہے کہ میرے گھر والے مجھے ایک خاص لڑکی سے شادی پر مجبور کر رہے ہیں،شروع سے ہی میرا دل شادی کی طرف مائل نہیں تھا، بلکہ بچپن ہی سے میں کہتا تھا کہ اگر شادی نہ بھی ہو تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ،کیونکہ میری طبیعت میں ایسی خواہشات ہی نہیں ہیں، میرے گھر والے مسلسل چھ ماہ تک مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے،وہ کہتے تھے کہ اگر تم اس لڑکی سے شادی نہیں کرو گے تو ہم تمہارے لیے کوئی اور رشتہ نہیں کریں گے، اور یہاں تک کہا کہ ہماری بھوک اور طبیعت خراب ہے ،کیونکہ تم یہ رشتہ قبول نہیں کر رہے،مسلسل دباؤ اور مجبوری کے بعد آخرکار میری منگنی اسی لڑکی سے کر دی گئی،اب بھی میرا دل سخت کراہت اور ناگواری محسوس کرتا ہے،میں اس لڑکی سے شادی بالکل نہیں کرنا چاہتا، حقیقت یہ ہے کہ نہ پہلے میرا ارادہ تھا اور نہ اب ہے،مزید یہ کہ میں جانتا ہوں کہ اگر شادی ہو بھی جائے تو میں اس لڑکی کا حق ادا نہیں کر سکوں گا، اور یوں اس کی زندگی بھی برباد ہوگی،میں چاہتا ہوں کہ وہ کسی ایسے شخص سے شادی کرے جو دل سے اس کی قدر کرے اور اس کے ساتھ مخلص ہو، میری تعلیم کے بھی ابھی کم از کم پانچ سال یا اس سے زیادہ باقی ہیں، لیکن والدین کا اصرار ہے کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد فوراً اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، حالانکہ میرے دل میں اس نکاح کے لیے کوئی آمادگی نہیں ہے، میرے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ یہی ایک لڑکی دنیا میں ہے اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو میرے لیے کوئی اور نہیں ملے گی، میرا سوال یہ ہے کہ(1) کیا والدین کا ایسا دباؤ ڈالنا شرعاً درست ہے؟ (2) کیا میرے لیے اس منگنی کو ختم کرنا جائز ہے؟ (3) والدین کو میں کس طرح شرعی طور پر جواب دوں کہ میرا نکاح اس حالت میں درست نہیں ہوگا؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو ، احادیثِ مبارکہ میں اس کو جلدی نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، آپﷺ کا ارشاد مبارک ہے : عن عبد الرحمن بن یزید قال دخلت مع علقمۃ و الأسود علی عبداللہ فقال عبداللہ کنا مع النبی ﷺ شباباً لا نجد شیئا فقال لنا رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر و أحصن للفرج ( باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ج: 3 ، ص: 2305 ،ط: بشری )۔ ترجمہ :”اے نوجوانوں کی جماعت تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے اس لیے کہ نکاح نگاہ کو بہت زیادہ پست کرنے والا اور شرمگاہ کی بہت زیادہ حفاظت کرنے والا ہے “اس حدیث مبارکہ میں استطاعت رکھنے والے شخص کو جلدی نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور رشتے میں شرعاً کوئی خرابی موجود نہ ہو ،تو سائل کو چاہیئے اس پر فتن دور میں سنت کی تعمیل اور گناہوں سے حفاظت کی خاطرا س نعمت کی قدر کرتے ہوئے ،اور والدین کی خوشی اور رضامندی کو مد نظر رکھتے ہوئےاس رشتے کو قبول کر کے جلد شادی کا اہتمام کرلے ۔
تاہم اگر پھر بھی سائل مذکور لڑکی سے شادی کرنے پر رضامند اور دلی طور پر آمادہ نہ ہو ،اور والدین زبرستی اور جبراً اس کی شادی اس لڑکی کے ساتھ کروا رہیں ہوں ،تو ایسی صورت میں سائل کے والدین کا اسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے پر زبردستی کرنا درست نہیں ، کیونکہ اس کی وجہ سے شادی کے بعد طلاق وغیرہ کی شکل میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، جسکی وجہ سے آپس میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، لہذا سائل اور اس کے والدین کوچاہیئے حکمت اور بصیرت کے ساتھ کوئی ایسی مناسب صورت اختیار کریں جو اختلاف اور فتنے فساد کا باعث کا نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن عبد الرحمن بن یزید قال دخلت مع علقمۃ و الأسود علی عبداللہ فقال عبداللہ کنا مع النبی ﷺ شباباً لا نجد شیئا فقال لنا رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر و أحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ و جاء ( باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ج: 3 ، ص: 2305 ،ط: بشری )۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ فقال لی رسول اللہﷺ ھل نظرت إلیھا قلت لا قال فانظر إلیھا فإنہ أحری أن یؤدم بینکما رواہ أحمد و النسائی و إبن ماجۃ و الدارمی ( کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج: 2، ص: 281، ط: قدیمی)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح تحت الحدیث: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ ( إلی قولہ) أی یوقع الأدم بینکما الألفۃ و المحبۃ لأن تزوجھا إذا کان بعد معرفۃ فلا یکون بعدھا غالبا ندامۃ الخ (کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج:2 ص281، ط: حقانیۃ)۔
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ ولا تجبر البالغۃ الخ) و لا الحر البالغ و لمکاتب و المکاتبۃ و لو صغیرین الخ (کتاب النکاح باب الولی ج: 3، ص: 58، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85483کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • والدین کا ذاتی رنجش کی وجہ سے اولاد کو رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • والدین کا اولاد کے حق میں بددعاکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • والدین کی خدمت کس کی ذمے داری ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کو" حجِ کعبہ "کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • داڑھی رکھنے پر والدہ کی نافرمانی ہوتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • بیٹے کے نافرمانی کی وجہ سے سسر بہو سے زیورات واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   والدین کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی اور اولاد کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • تبلیغی جماعت میں جانے کیلئے ملازمت سے استعفیٰ دینا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • نافرمان اولاد کو عاق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدین کے ساتھ سخت رویہ رکھنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • معمر والد کی دوسری شادی اور نان و نفقہ سے متعلق

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • اسلام میں خدمتِ والدین کا مقام

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کیا بچوں کی شادی میں دادا دادی کی مرضی کا خیال رکھنا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • بیٹوں کی موجودگی میں شادی شدہ بیٹی پر والدین کی خدمت کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کی وفات کے بعد ان کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدہ کی خدمت بیٹوں اور بیٹیوں میں سے کس کے ذمہ ہے؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کاروبار اور حصولِ تعلیم کے لیے والدین سے الگ ہونا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • کیا والد اپنی بالغ اولاد کو کسی سے تحفہ وغیرہ لینےسے منع کرسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 1
  • بیٹے کا والد سے جدا ہونا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والد کے گناہوں کی وجہ سے ان سے بات نہ کرنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • Ruling of behavior with fathers wife after father is passed away

    یونیکوڈ   انگلش   والدین کے حقوق 0
  • بیٹے کا والدہ کو باہر ملک اپنے ساتھ نہ رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے بیٹےکے لئے ماں سے الگ ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • والدین کے برا بھلا کہنے پر بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
  • دین کی خدمت کی خاطر جاب چھوڑنا،جبکہ والدین جاب چھوڑنے سے منع کر رہے ہوں

    یونیکوڈ   والدین کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات