السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! میری صورتِ حال یہ ہے کہ میرے گھر والے مجھے ایک خاص لڑکی سے شادی پر مجبور کر رہے ہیں،شروع سے ہی میرا دل شادی کی طرف مائل نہیں تھا، بلکہ بچپن ہی سے میں کہتا تھا کہ اگر شادی نہ بھی ہو تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ،کیونکہ میری طبیعت میں ایسی خواہشات ہی نہیں ہیں، میرے گھر والے مسلسل چھ ماہ تک مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے،وہ کہتے تھے کہ اگر تم اس لڑکی سے شادی نہیں کرو گے تو ہم تمہارے لیے کوئی اور رشتہ نہیں کریں گے، اور یہاں تک کہا کہ ہماری بھوک اور طبیعت خراب ہے ،کیونکہ تم یہ رشتہ قبول نہیں کر رہے،مسلسل دباؤ اور مجبوری کے بعد آخرکار میری منگنی اسی لڑکی سے کر دی گئی،اب بھی میرا دل سخت کراہت اور ناگواری محسوس کرتا ہے،میں اس لڑکی سے شادی بالکل نہیں کرنا چاہتا، حقیقت یہ ہے کہ نہ پہلے میرا ارادہ تھا اور نہ اب ہے،مزید یہ کہ میں جانتا ہوں کہ اگر شادی ہو بھی جائے تو میں اس لڑکی کا حق ادا نہیں کر سکوں گا، اور یوں اس کی زندگی بھی برباد ہوگی،میں چاہتا ہوں کہ وہ کسی ایسے شخص سے شادی کرے جو دل سے اس کی قدر کرے اور اس کے ساتھ مخلص ہو، میری تعلیم کے بھی ابھی کم از کم پانچ سال یا اس سے زیادہ باقی ہیں، لیکن والدین کا اصرار ہے کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد فوراً اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، حالانکہ میرے دل میں اس نکاح کے لیے کوئی آمادگی نہیں ہے، میرے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ یہی ایک لڑکی دنیا میں ہے اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو میرے لیے کوئی اور نہیں ملے گی، میرا سوال یہ ہے کہ(1) کیا والدین کا ایسا دباؤ ڈالنا شرعاً درست ہے؟ (2) کیا میرے لیے اس منگنی کو ختم کرنا جائز ہے؟ (3) والدین کو میں کس طرح شرعی طور پر جواب دوں کہ میرا نکاح اس حالت میں درست نہیں ہوگا؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو ، احادیثِ مبارکہ میں اس کو جلدی نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، آپﷺ کا ارشاد مبارک ہے : عن عبد الرحمن بن یزید قال دخلت مع علقمۃ و الأسود علی عبداللہ فقال عبداللہ کنا مع النبی ﷺ شباباً لا نجد شیئا فقال لنا رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر و أحصن للفرج ( باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ج: 3 ، ص: 2305 ،ط: بشری )۔ ترجمہ :”اے نوجوانوں کی جماعت تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے اس لیے کہ نکاح نگاہ کو بہت زیادہ پست کرنے والا اور شرمگاہ کی بہت زیادہ حفاظت کرنے والا ہے “اس حدیث مبارکہ میں استطاعت رکھنے والے شخص کو جلدی نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور رشتے میں شرعاً کوئی خرابی موجود نہ ہو ،تو سائل کو چاہیئے اس پر فتن دور میں سنت کی تعمیل اور گناہوں سے حفاظت کی خاطرا س نعمت کی قدر کرتے ہوئے ،اور والدین کی خوشی اور رضامندی کو مد نظر رکھتے ہوئےاس رشتے کو قبول کر کے جلد شادی کا اہتمام کرلے ۔
تاہم اگر پھر بھی سائل مذکور لڑکی سے شادی کرنے پر رضامند اور دلی طور پر آمادہ نہ ہو ،اور والدین زبرستی اور جبراً اس کی شادی اس لڑکی کے ساتھ کروا رہیں ہوں ،تو ایسی صورت میں سائل کے والدین کا اسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے پر زبردستی کرنا درست نہیں ، کیونکہ اس کی وجہ سے شادی کے بعد طلاق وغیرہ کی شکل میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، جسکی وجہ سے آپس میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، لہذا سائل اور اس کے والدین کوچاہیئے حکمت اور بصیرت کے ساتھ کوئی ایسی مناسب صورت اختیار کریں جو اختلاف اور فتنے فساد کا باعث کا نہ ہو۔
کما فی صحیح البخاری: عن عبد الرحمن بن یزید قال دخلت مع علقمۃ و الأسود علی عبداللہ فقال عبداللہ کنا مع النبی ﷺ شباباً لا نجد شیئا فقال لنا رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر و أحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ و جاء ( باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ج: 3 ، ص: 2305 ،ط: بشری )۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ فقال لی رسول اللہﷺ ھل نظرت إلیھا قلت لا قال فانظر إلیھا فإنہ أحری أن یؤدم بینکما رواہ أحمد و النسائی و إبن ماجۃ و الدارمی ( کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج: 2، ص: 281، ط: قدیمی)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح تحت الحدیث: عن المغیرۃ بن شعبۃ قال خطبت إمرأۃ ( إلی قولہ) أی یوقع الأدم بینکما الألفۃ و المحبۃ لأن تزوجھا إذا کان بعد معرفۃ فلا یکون بعدھا غالبا ندامۃ الخ (کتاب النکاح باب النظر إلی المخطوبۃ ج:2 ص281، ط: حقانیۃ)۔
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ ولا تجبر البالغۃ الخ) و لا الحر البالغ و لمکاتب و المکاتبۃ و لو صغیرین الخ (کتاب النکاح باب الولی ج: 3، ص: 58، ط: سعید)۔