محترم مفتی صاحب،السلام علیکم
میں ڈھاکہ میڈیکل کالج میں ٹریننگ کر رہا ہوں، اور کام کے اضافی دباؤ کی وجہ سے ہم اپنے سینئرز سے کہتے ہیں کہ وہ ہفتے میں ایک دن ہمارے لئے ناشتے کا بندوبست کریں، اور ہماری درخواست پر انہوں نے ہمارے لئے ناشتے کا عمدہ انتظام کیا۔ فی الحال بڑی کمپنیوں کے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہیں کہ وہ ایک مخصوص کمپنی سے دوائیں خریدیں اور مریضوں کو مخصوص ہسپتالوں میں ضروری ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیں۔ تاہم ان سفارشات پر عمل کرنا مکمل طور پر مریض کی خواہشات پر منحصر ہے۔ اس کے بدلے میں وہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں صاحبان کو مختلف فوائد فراہم کرتی ہیں، جیسے کہ غیر ملکی دورے، مقررہ فیصد وغیرہ، اور ہمارے ہفتہ وار ناشتے کا انتظام بھی بڑے صاحبان کی فرمائش پر ان کمپنیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صاحب ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ فلاں کمپنی نے آپ کے لئے فلاں فلاں ناشتے کا انتظام کیا ہے، اس لئے اگر آپ کو موقع ملے تو آپ کچھ مریض ان کے پاس بھیج دیں۔ البتہ ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم صاحبان کی اس نصیحت پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ مریضوں کے لئے وہاں جانا اور ٹیسٹ کروانا مکمل طور پر اختیاری ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ:
( 1) کیا ڈاکٹروں کے لئے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ شدہ ان فوائد سے نفع حاصل کرنا جائز ہے؟
(2 ) کیا یہ کھانا ٹھیکہ دینے والی کمپنیوں کی فنڈنگ سے فراہم کیا جانا ہمارے لئے قانونی ہے؟
(3 ) اگر یہ صحیح نہیں ہے تو باطل ہونے کی کیا وجہ ہے؟
(4 ) اور اس معاملے میں توثیق کا ممکنہ طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟
واضح رہے کہ طب اور علاج کا شعبہ انسانیت کی خدمت پر مبنی ایک عظیم فریضہ ہے۔ مسلمان ڈاکٹر کا شرعی اور اخلاقی فریضہ بنتاہے کہ وہ مریض کے مرض اور اس کی حالت کے مطابق موزوں ترین دوا تجویز کرے، اس میں اپنے کسی قسم کے ذاتی مفاد کو دخل نہ دے۔اس لئے کسی ڈاکٹر کا مریض کی صحت کے خلاف اپنے فائدے کو سامنے رکھ کر دوا تجویز کرنا شرعاً یہ ایک قسم کی خیانت اور بددیانتی ہے جس کی شریعت میں بالکل بھی گنجائش نہیں ۔البتہ اگر کوئی دوا ساز کمپنی کسی ڈاکٹر سے معاہدہ کرے کہ وہ اس مخصوص دوا کو جب وہ مریض کے لئے واقعی مفید ہو،تجویز کرے گا ، اور اس کے عوض کمپنی ڈاکٹر کو بعض فوائد اور عطیات و ہدایا و غیرہ دیدے اور مریض کو بھی ان کمپنیوں کی ادویہ خریدنے پر جبر نہ کیا جاتاہو بلکہ ان ادویہ کی خریداری اس کی مرضی اور صوابدید پر منحصر ہو تو اس صورت میں کمپنیوں کی طرف سے حاصل شدہ فوائد سے مستفید ہونے کی گنجائش ہے ، تاہم اگر یہ فوائد مشروط ہوں اور مریضوں کو ان کمپنیوں سے ادویہ کی خریداری پر مجبور کیا جاتاہو یا محض ذاتی فوائد کے حصول کے لئے غیر ضروری دوائیں تجویز کرکے کمپنی کو فائدہ پہنچایا جارہاہو تو اس صورت میں یہ تمام فوائد رشوت کے زمرے میں شامل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہونگے۔ سائل اور اس کے ساتھ ٹریننگ کرنے والے افراد اگر مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہو ں تو ان کمپنیوں کی طرف سے فراہم کیا جانے والا ناشتہ یا دیگر فوائد حاصل کرنے کی گنجائش ہے ، اور اگر ان شرائط کی پاسداری نہ کی گئی ہو تو ان فوائد سے مستفید ہونے سے گریز لازم ہے ۔
کما فی مسند أحمد: (عن ثوبان قال: لعن رسول اللہ ﷺ الراشی والمرتشی والرئش، یعنی: الذی یمشی بینھما)( تتمۃ مسندالأنصار،ج:37، ص: 85، ناشر: مؤسسۃ الرسالۃ)-
وفی مسند البزار(عن أبی سلمۃ بن عبد الرحمن، عن أبیہ،قال: قال رسول اللہ ﷺالراشی والمرتشی فی النار) ( مسند عبد الرحمن بن عوف، ج:3، ص: 247، ناشر: مکتبۃ العلوم والحکم)-
وفی اعلاء السنن: والحاصل أن حد الرشوة هوما يؤخذ عما وجب علي الشخص سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية وسواء كان واجبا حقا للشرع كما في القاضي وأمثاله (الی قولہ) أو كان واجباً عقداً كمن آجر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيمالهم، أو عليهم كأعوان القاضي، وأهل الديوان وأمثالهم الخ۔ (باب الرشوۃ، ج:15ص:68، ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی فتح القدیر: وفي شرح الأقطع: الفرق بين الرشوة والهدية أن الرشوة يعطيه بشرط أن يعينه، والهدية لا شرط معها انتهى. والأصل في ذلك ما في البخاري عن أبي حميد الساعدي قال «استعمل النبي صلى الله عليه وسلم رجلا من الأزد يقال له ابن اللتبية على الصدقة، فلما قدم قال: هذا لكم وهذا لي، قال عليه الصلاة والسلام: هلا جلس في بيت أبيه أو بيت أمه فينظر أيهدى له أم لا» قال عمر بن عبد العزيز: كانت الهدية على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم هدية واليوم رشوة، ذكره البخاري. واستعمل عمر رضي الله عنه أبا هريرة فقدم بمال فقال له: من أين لك هذا؟ قال: تلاحقت الهدايا، فقال له عمر رضي الله عنه: أي عدو الله هلا قعدت في بيتك فتنظر أيهدى لك أم لا، فأخذ ذلك منه وجعله في بيت المال وتعليل النبي صلى الله عليه وسلم دليل على تحريم الهدية التي سببها الولاية اھ (کتاب ادب القاضی، ج: 7، ص : 272، ناشر:مکتبۃ مطبعۃ البابی الحلبی)-
وفی رد المحتار: تحت(قوله: إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء الخ۔(مطلب ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا،ج:6،ص:95،ط:سعید)۔