گناہ و ناجائز

غیر شرعی پوسٹ اور اسٹیٹس لگانے والے کے ساتھ تعلق کا حکم

فتوی نمبر :
85549
| تاریخ :
2025-08-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر شرعی پوسٹ اور اسٹیٹس لگانے والے کے ساتھ تعلق کا حکم

اَللَّهُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ,صرف اپنے فرقے کی کتابیں پڑھ کر خود کو اہل حق سمجھنا ویسا ہی ہے جیسے اکیلے دوڑ کر فرسٹ انا,‏ہر نبیؑ نے اپنی امت سے کہا آؤ جنت ملے گی۔ حسین۴ نے قانون بدل کر شب عاشور چراغ بجھا کر کہا "چلے جاؤ تو بھی جنت ملے گی۔"

‎#شبِ_عاشور
‎#ٹوٹ_بٹوٹ
میں نماز میں رفع الیدین کرتا ہوں لیکن اہل حدیث نہیں ہوں
میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تمام اہل بیت سے محبت کرتا ہوں لیکن میں شیعہ نہیں ہوں۔
میں قبروں سے فیض لینے کو بدعت سمجھتا ہوں
میں (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) پر ایمان رکھتا ہوں
میں دیوبندی نہیں ہوں
الحمد للہ میں مسلمان ہوں"
"اِس کے علاوہ مولانا اِسحاق اور انجینئر محمد علی مرزا کی ویڈیوز بھی شیئر کی جائیں۔"
جب دیوبند کے مفتی صاحب کو دکھائی گئیں تو انہوں نے فرمایا کہ یہ عقائد گمراہ کُن ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے والدین سے بات کریں، اگر یہ شخص اپنا عقیدہ درست کرلے تو بہتر ہے، ورنہ رشتہ ختم کر دینا چاہیے۔ جب یہ بات اُس کے والدین کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم اس سے بات کرکے آپ کو جواب دیں گے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ شخص یہ کہہ رہا ہے کہ یہ پوسٹس اُس نے اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی لگا دی تھیں۔مگر اس وضاحت کے باوجود اُس نے دوبارہ ویسی ہی پوسٹس شیئر کیں اور پُرانی پوسٹس کو بھی حذف نہیں کیا۔ مزید یہ کہ جن لوگوں کے پاس اُس کا واٹس ایپ اسٹیٹس نظر آتا ہے وہ بھی یہی بتا رہے ہیں کہ وہ وہاں بھی اسی طرح کے مواد لگاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کے ساتھ رشتہ قائم رکھنا چاہیے یا پھر ختم کردیا جاے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عقیدہ ایک باطنی امرہے ،جس کاتعلق انسان کے قلبی اعتقاداوریقینی تصدیق کے ساتھ ہوتاہے ،لہذا محض بعض اختلافی یا جذباتی نوعیت کی پوسٹس شیئر کرنے سے کسی شخص پر کفر یا اسلام سے خروج کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، خصوصاً جبکہ ان میں بعض باتیں اہلِ سنت کے دائرے کے اندر تاویل کی گنجائش بھی رکھتی ہوں۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایسا مواد پھیلانا جس سے مسلمانوں کے درمیان نفرت، تشویش اور فکری انتشار پیدا ہو، سخت ناپسندیدہ اور گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی طرح غیر مستند یا متنازع شخصیات کی تقاریر اور مواد کو تحقیق کے بغیر مسلسل پھیلانا بھی درست طرزِ عمل نہیں، خصوصاً جب اس سے عقائد میں اضطراب پیدا ہورہا ہوتوایسے عمل سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی فی التنزیل : ﴿وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا 140﴾ [النساء: 140]
وفی تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» :قوله تعالى: (وقد نزل عليكم في الكتاب أن إذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزأ بها) الخطاب لجميع من أظهر الإيمان من محق ومنافق، لأنه إذا أظهر الإيمان فقد لزمه أن يمتثل أوامر كتاب الله. فالمنزل قوله تعالى: (وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره «1»). وكان المنافقين يجلسون إلى أحبار اليهود فيسخرون من القرآن.(5/ 417)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85549کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات