السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
میرا ایک مسئلہ ہے، براہ کرم اس کی شرعی رہنمائی فرمائیں۔ آج کل لوگ فاریس (Forex) ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency) میں سرمایہ کاری اور خرید و فروخت کرتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا فاریکس ٹریڈنگ شریعت کی رو سے حلال ہے یا حرام؟
2. کیا بٹ کوائن، ایتھیریم وغیرہ جیسی کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ کرنا جائز ہے؟
3. اگر اس میں کچھ شرائط کے ساتھ اجازت یا ممانعت ہے تو براہ کرم وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
فاریکس کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہےکہ کوئی شخص براہِ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی میں کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتاہے، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیاہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتاہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتاہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقرہ وقت پر سودا مکمل نہ ہوتو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کوئی چیز خریدنا اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتاہے، بلکہ محض نفع ونقصان برابر کیا جاتاہے، اس لیے یہ سٹہ کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
نیز کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم پر کمیشن لینایا توقرض پر سود ہے، یا کفالت کی اجرت ہے، اور یہ دونوں چیزیں شرعاً ناجائز ہیں، لہٰذا اس کاروبار میں شریک ہونا اور نفع کمانا شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ موجودہ ڈیجیٹل کرنسیوں کی شرعی حیثیت اب تک غیر واضح اور غیر اطمینان بخش ہے، پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں قانونی طور پر اس کو مبادلہ اور خرید وفروخت کے لئے استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہے ۔ لہذا اب تک کی معلومات کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت اور کاروبار کرنے اور اس سے حاصل شدہ نفع اپنے استعمال میں لانے سے احتیاط لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها): أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم، وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة وكذا بيع الحمل؛ لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم، وإن باع الحمل فله خطر المعدوم الخ (فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه ج:5، ص: 138،ناشر: دار الکتب العلمیۃ)۔