السلام علیکم و رحمۃ اللہ،
میں آئل اینڈ گیس فیلڈ میں کام کرتا ہوں۔ یہاں بعض اوقات H₂O جیسی گیسیں موجود رہتی ہیں جو صحت کے لیے خطرناک اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس وجہ سے کمپنی کی طرف سے سیفٹی اصولوں کی بنیاد پر مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ میں داڑھی کو چھوٹا کروں تاکہ ماسک اچھی طرح پہنا جا سکے۔
میں اس مسئلے کی وجہ سے سخت تشویش میں ہوں، کیونکہ میرا ویزا بھی لگ چکا ہے اور کمپنی کے اصولوں کے مطابق اگر میں انکار کی صورت میں ان کی پالیسی پر عمل نہ کروں تو وہ میرے تمام اخراجات واپس لینے کا حق رکھتی ہے۔
براہ کرم اس مسئلے میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ کمپنی کی پالیسی یا ماسک کا چھوٹا ہونا ایسا عذر نہیں کہ جس کی بنیاد پر شریعت کی بیان کردہ حد سے کم مقدار میں داڑھی کترو انے کی گنجائش ہو،لہٰذا مذکورعذر کو بنیاد بنا کر ایک مشت سے کم حد تک داڑھی چھوٹی کرنا سائل کیلئے شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی المشکوٰۃ:عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال قال رسول اللہ ﷺ خالفوا المشرکین اوفروااللحٰی واحفواالشوارب۔(باب الترجل ،ص:380،ج:2،م:قدیم۔)
وفی الدرالمختار: وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح.(باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:2،ص:418،م:کراچی۔)
وفیہ ایضاً: ولا بأس بنتف الشيب، وأخذ أطراف اللحية والسنة فيها القبضة. وفيه: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته۔(فصل فی البیع،ج:6،ص: 407،م:کراچی۔)