گناہ و ناجائز

اسٹڈی ویزہ پر ملازمت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
85701
| تاریخ :
2025-08-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسٹڈی ویزہ پر ملازمت کرنے کا حکم

کیا اسٹڈی ویزا پر بیرون ملک کام کرنا حلال ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے شریعتِ مطہرہ نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، اور قرآن و حدیث میں دھوکہ دینے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں بیرون ممالک میں کاروبار کرنے کے لئے کاروباری اور بزنس ویزا لینے کے بجائے اسٹڈی ویزا بنوانا جھوٹ،فریب اوردھوکا دہی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سےشرعاً جائز نہیں ہے،تاہم اگر کوئی اس طرح ویزا حاصل کر کے وہاں کاروبارکرتا ہواور اس کا کاروبار جائز اور حلال ہو،یا ملازمت کرتا ہو ،اور ملازمت کی دیوٹی پوری دیانت داری کے ساتھ پورا کرتا ہو،تو اس کی آمدن حرام نہ ہوگی،اس طرح اگر کسی نے اسٹڈی ویزا حاصل کیا ،اور وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں کاروبار وغیرہ کرتا ہو،اور ایسا کرنا قانوناً بھی منع نہ ہو، تو یہ جائز اور درست ہو گا،اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذی : عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: ‌إنّ ‌الغادر ينصب له لواء يوم القيامة."(أبواب السیر، باب ما جاء أنّ لكل غادر لواء يوم القيامة، ج:3، ص:196، ط:دار الغرب الاسلامي)۔
و فی الصحیح للبخاری: عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال إن الصدق یھدی إلی البر و إن البر یھدی إلی الجنۃ و إن الرجل لیصدق حتی یکون صدیقا و إن الکذب یھدی إلی الفجور، و إن الفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا (باب قول اللہ تعالی(( اتقوا اللہ و کونو مع الصٰدقین )) و ما ینھی عن الکذب، ج 4، ص 2712، ط: بشری)۔
و فی الدر المختار: (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع (لو قادرا) الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم}(الی قولہ) «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة الخ (باب البغاۃ،ج 4،ص 265،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85701کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات