گناہ و ناجائز

بیٹے کاوالد کے مکان پر تعمیری اخراجات کا ترکے میں سے منہا کرنے کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
85770
| تاریخ :
2025-08-31
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیٹے کاوالد کے مکان پر تعمیری اخراجات کا ترکے میں سے منہا کرنے کا مطالبہ کرنا

ہم لوگ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ، میرے والد اور میرے تمام بھائی بشمول میرے ، ہم سب کمیٹی ڈال کر مکان لیتے ہیں اور پھر اس کی تعمیر بھی کمیٹی ڈال کر کرواتے ہیں، اور جب ہم مکان بنانے کے لیے کھڑے ہوئے، پیسوں کی فراوانی تو تھی نہیں ، اور کمیٹیاں ڈال کر تیاری کی تھی ، مہنگائی کی وجہ سے پیسے ختم ہو گئے، لہذا پیسوں کی تنگی کی وجہ سے کام روکنا پڑا، اور جبکہ میں کئی سال سے کرائے کی دکان میں تھا، اور میں کچھ پیسے جمع کر کے ، دکان لینے کا ارادہ رکھتا ہوں، تو میں نے والد صاحب سے کہا کہ آپ کے چاروں پورشن کی فنشنگ کروانے کے بعد اوپر کے دو پورشن بھی بنوا دوں گا آپ کے لیے ، کیونکہ بڑے بھائی کی شادی بھی جلدی کرنی ہے کافی عمر ہو گئی تھی ان کی، کیونکہ گھر والے پریشان ہو ں تو دکان لینا مجھے گوارا بھی نہیں ہے، اور پیسے گھر میں لگا دوں تو میری دکان کا کرایہ ہر مہینے مجھے تنگ کرے گا اور دکان کے خرچے سے پھر کرایہ بھرنا پڑے گا، لہذا میں نے دکان لینے کا ارادہ ملتوی کر کے ان کے چار پورشن کمپلیٹ کروائے ، اور یہ چاروں پورشن ان کے ہی پاس ہیں ، کہ وہ چاہیں تو رہائش کریں یا تو کرائے پر دیں، اور اوپر کے دو پورشن بھی ان ہی کے پاس ہیں اور اوپر کے دو پورشنوں کا کرایہ ، جو کہ میں نے اپنے ہی پیسوں سے بنوایا ہےمیں رکھنا چاہتا ہوں ، اور والد صاحب اور بھائیوں کو میں نے یہ پیشکش بھی کر دی ہے، کہ وہ جب بھی مجھے میرے پیسے واپس کر دیں گے ، (بنا کسی اضافے کے) تو میں کرائے سے اور ہر چیز سے دستبردار ہو جاؤں گا، کیونکہ دکان میں لے نہیں سکا اور کرائے کی دکان کا کرایہ تو ہر مہینے بھرنا پڑتا ہے، تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں، کہ کیا یہ حرام ہے ؟ یا سود ہے ؟ یا یہ ایک معاہدہ ہے ؟ اسلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
(نوٹ: مکان کی تعمیر میں خرچ کرتے وقت بیٹے اور والد کے درمیان قرض اور واپسی کا معاہدہ ہواتھا، اور بعد میں والد کا انتقال ہوگیا )

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل نے مذکور تعمیر پر کچھ رقم خرچ کی تھی ، وہ اگر بطور قرض کی تھی جیساکہ سوال کے ساتھ نوٹ میں اس کی صراحت کی گئی ہے، تو یہ تمام تعمیروالد ہی کی ملکیت شمار ہوگی ، اور اسپر آنے والے اخراجات والد مرحوم کے ذمہ قرض ہونگے، جس کی ادائیگی سائل کے والد کے ذمہ لازم تھی، اور اب ان کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ سے منہا ہوں گے، جبکہ والد مرحوم کے انتقال کے بعد چونکہ اس تمام تعمیر میں تما م ورثاء حسبِ حصصِ شرعیہ حصہ دار ہیں، اس لئے سائل کیلئے ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر اپنی قرض کی رقم کی وصولی تک والد کےمذکور مکان کے دوپوریشن کرایہ کے طور پر دیکر کرایہ اپنے پاس رکھنا شرعاً جائز نہ ہوگا، جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر فی الحال ترکہ تقسیم نہ کرنے پر تمام ورثاء رضا مند ہوں اور اس بات پر متفق ہوں کہ والدمرحوم کے متروکہ مکان کو کرایہ پر دیا جائے تو ایسی صورت میں حاصل ہونے والا کرایہ تمام ورثا میں ان کے حصوں کی بقدر تقسیم ہوگا ۔ البتہ سائل اگر ترکہ کے مذکور مکان کے دو پورشن تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے لے کر اپنے حصہ یا قرض سے دستبردار ہوجائے تو ایسی صورت میں اس معاہدہ کے نتیجہ میں سائل مقررہ عوض کے بدلے ان پورشنوں کا مالک بن جائے گا، پھر وہ ان پر جو تصرف کرنا چاہے، شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر: قال رحمه الله (ولو ‌عمر ‌دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمر لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة لہ الخ۔ ( مسائل شتی، مطلب للقاضي أن يقرض مال الغائب والطفل واللقطة، ج: 8، ص: 553، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر: (‌عمر ‌دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها الخ۔ (مسائل شتی، ج: 6، ص: 747، ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: كما تكون ‌أعيان ‌المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم الخ۔الفصل الثالث فی بیان المشترکۃ، ج: 4، ص: 31، ط مکتبۃ اسلامیۃ کوئٹہ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85770کی تصدیق کریں
0     293
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات