گناہ و ناجائز

بہنوئی کا اپنی سالی سے تعلق رکھنااور نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
85884
| تاریخ :
2025-09-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بہنوئی کا اپنی سالی سے تعلق رکھنااور نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم! مفتی صاحب !میرا ایک بہت سیریس ایشو ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ میری تیسرے نمبر والی بہن کا شوہر میری پانچ نمبر والی بہن کے ساتھ بہت زیادہ حد تک انوالو ہے، میری بہن کی طرف سے زیادہ ہے ،اور جب کہ اس کا علم بھی میرے گھر والوں کو نہیں ہے، میں چاہتی ہوں پلیز مجھے کوئی دعا اور وظیفہ بتائیں اور استخارہ کر کے بتائیں کہ میرے بہنوئی کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہےاور میری بہن کے ،اور مجھے استخارہ بتائیں کہ میرے بہنوئی کا دل( تیسرے نمبر والی بہن کے شوہر کا دل )میری پانچویں نمبر والی بہن کی طرف سے بدگمان یا بدظن ہو جائے ،تاکہ ان دونوں کے بیچ جو بھی ہے،وہ ختم ہو جائے، کیونکہ میرے بہنوئی کی بیگم جو کہ میری تیسرے نمبر والی بہن ہے، وہ پریگننٹ ہے ،اور یہ اس کا لاسٹ ون تھا ڈلیوری کا، اور میں چاہتی ہوں ڈیلیوری سے پہلے ہی ان لوگوں کی آپس میں ناچاقی ہو جائے ،تاکہ وہ اپنی بیگم کو نہ چھوڑے اور تیسری شادی کی طرف نہ جائے، کیونکہ میرا بہنوئی ارادہ کر رہا ہے تیسری شادی کا، پر ابھی اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سے شادی کر رہا ہے، بس اس نے کہا کہ ایک لڑکی ہے جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں، اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ وہ میری پانچویں نمبر والی بہن ہی ہے، کیونکہ اس کے علاوہ تو کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کبھی اس نے پہلے کبھی ذکر کیا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت آزادانہ تعلق رکھنا یا بات چیت کرنا شرعاًناجائزوحرام اور گناہ کبیرہ ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں سائلہ کے بہنوئی کے لیے چونکہ اس کی بیوی کی تمام بہنیں غیر محرم ہیں، اس لیے اس پر اپنی بیوی کی بہنوں سےبلاحجاب غیرضروری بات چیت یا دوستانہ تعلق رکھنے سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
جبکہ سائلہ کی مذکورپانچویں نمبروالی بہن پربھی لازم ہے کہ وہ غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت تعلق، بات چیت یا انوالو ہونےسے مکمل اجتناب کرے، اور شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئےاپنی عزت وپاکدامنی کاتحفظ اور گھر و خاندان کاوقارمجروح کرنے سے بازرہے۔تاہم اگر سائلہ کے بہنوئی اور پانچویں نمبر والی بہن کے درمیان نامناسب تعلق یا معاملات ہوئے ہوں، اورسائلہ کوان باتوں کاعلم ہوتومزیدکسی قسم کے بگاڑسے بچنے کے لیےدرست طریقہ یہ ہےکہ وہ اپنے خاندان کے بااثر اور معتبر افراد کورازداری کے ساتھ اس معاملے سے آگاہ کرے، تاکہ معاملہ خاندان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ، مکمل رازداری کے ساتھ حل کیا جا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ الخ(سورۃ النور،الایۃ30)
وقال تعالیٰ ایضا: وَأَن يَسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٞ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ (سورۃ النور،الایۃ60)
وفی المرقاۃ: ‌المحرم ‌من ‌النساء ‌التي ‌يجوز له النظر إليها والمسافرة معها كل من حرم نكاحها على التأبيد بسبب مباح لحرمتها فخرجت بالتأبيد أخت الزوجة الخ(کتاب المناسک، الفصل الأول،ح2515،ج5،ص2515،ط: دار الفکر)۔
وفی الدر:(امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره الخ
وفی الرد تحت( قولہ: وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنةالخ(کتاب الحظر والاباحۃ، ‌‌فصل في النظر والمس،ج6364،ط:ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85884کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات