میں فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے ہی اسلامی اصولوں کے مطابق فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں آپ کی رائے سنی ہے،لیکن مجھے ایک ایسے شخص کی ویڈیو موصول ہوئی جو مفت میں فاریکس ٹریڈنگ سکھا رہا تھا، وہ سید ہے، کیا آپ براہ کرم اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں جو میں آپ کو بھیج رہا ہوں، تو آپ شرعی اصول کے مطابق اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں،اس لیے میں ہر طرح سے حرام سے آزاد ہو سکتا ہوں اور یہ میری اور دوسروں کی بھی مدد کر سکتا ہے، میں آپ کا بہت شکریہ ادا کروں گا۔
Video link:
https://youtu.be/y16YPqCSEuM?si=qZbvGqyW14x04EQU
(مذکور ویڈیو میں موجود شخص بنیادی طور پر اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کررہاہے کہ علماء نے فاریکس ٹریڈنگ کے عدم جواز کا جو فتوی دیا ہے اس کی وجہ (بیع قبل القبض) یعنی قبضہ کئے بغیر آگے فروخت کرنا ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس پلیٹ فارم پر کچھ بروکر ہوتے ہیں جو آپکی طرف سے قبضہ کررہےہوتے ہیں اور اس کا قبضہ آپ کا قبضہ ہی شمار ہوتاہے ، اس لئے فاریکس ٹریڈنگ جائز ہونا چاہیے)
واضح ہوکہ فاریکس کے کاروبار کے عدم جواز کی وجہ محض بیع قبل القبض نہیں ہے،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں کئی دیگرشرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں،جو کہ درج ذیل ہیں،
1۔ لیوریج (Leverage) حقیقت میں ”قرض کے بدلے تجارت“ ہے، اگرچہ بروکر اسے فیسلٹی(facility) کہتا ہے، مگربروکر دراصل اپنی اصل ملکیت سے رقم فراہم کرتا ہے،یہ رقم کام کرنے والے کے اختیار میں آ کر ٹریڈ بنتی ہے،بروکر اس ٹریڈ سے مستقل کمیشن کماتا ہے ،بروکر چونکہ قرض دے کر تجارت کرواتا ہے اور اسی قرض ہی کی وجہ سے اس کی کمائی بڑھتی ہے ،یہ قرض کے عوض نفع ہے جو شرعاً سود کےزمرے میں ہی آتاہے اورہرقسم کاسودی معاملہ کرنایااس کاحصہ بنناشرعاناجائزاورحرام ہے۔
2۔ فاریکس ٹریڈنگ میں حقیقی قبضہ (Real Possession) نہیں ہوتا ،آن لائن(Online Retail Forex) میں ٹریڈر نہ کرنسی کی فزیکل ڈلیوری لیتا ہے،نہ اس کرنسی پر اس کی ملکیت ثابت ہوتی ہے،بروکر صرف ”قیمتوں کے اتار چڑھاؤ“ میں پوزیشن بنواتا ہے،اس میں ’’صرف ریٹ پر دائو‘‘ لگتا ہے، نہ کہ واقعی خرید و فروخت ہوتی ہے،اسے مالیاتی زبان میں "کانٹریکٹ فار ڈیفرینس"Contract for Difference (CFD) کہا جاتا ہے، جو فقہی طور پر بیع نہیں ،بلکہ محض مالی سٹہ ہے۔فقہِ اسلامی میں کرنسی کی بیع کے لیے دو شرطیں لازمی ہیں:
1.ملکیت کا ثبوت
2.قبضہ
اوریہ دونوں شرطیں Online Forex میں نہیں پائی جاتی ہیں۔
3۔ فاریکس کی اصل کمائی خرید و فروخت کے بجائے محض ریٹ پرقیاس آرائی ،تخمینہ ،اندازہ ( Speculation) لگاناہے،کسی قسم کاحقیقی لین دین(buy/sell )سے نہیں،بلکہ قیمت کے اُتار چڑھاؤ (price movement) پر ہوتی ہے،جبکہ حقیقی لین دین اورقبضہ کے بغیر محض قیمت کےاتار چڑھاؤ پر نفع حاصل کرناشرعاًقمار (Gambling) کی ایک صورت ہے جسے قرآن میں صراحتاحرام قراردیا گیا ہے۔
4۔ فاریکس ٹریڈرپرکام کرنے والے اکثرلوگوں کاخیال یہ ہوتاہے"سوآپ فری" ہونے سے اس کے ناجائزاورحرام ہونے کی علتیں شایدختم ہوجاتی ہیں،حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے "سوآپ فری "ہونے کے باوجوداس کےناجائزہونے کی اصل علتیں ختم نہیں ہوتیں ،بلکہ وہ تمام وجوہات برقراررہتی ہیں، کیونکہ اس کے ناجائزہونے کی اصل کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1.لیوریج قرض ہی صورت ہے جس سے براہ راست نفع لیا جا رہا ہے۔
2.حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوتی ہے۔
3.تجارت کابیشتر حصہ ورچوئل قیمتوں پر منحصرہے،جوکہ معاصرفقہاء کرام کے نزدیک مشکوک ومشتبہ ہے ۔
4.کرنسی پرقبضہ ثابت نہیں ہوتا،بلکہ عام طورپرصرف ڈیفرنس برابرکرنے پراکتفاء کیاجاتاہے۔
5.مالیاتی سٹہ (speculation) غالب ہے۔
لہذا اس کاروبار کی حرمت کی اصل شرعی علتیں برقرار رہتی ہیں،جس کی وجہ سے فاریکس کا موجودہ طریقہ (لیوریج بیسڈ آن لائن ٹریڈنگ)شرعاسوداور سٹہ بازی اوردیگرشرعی مفاسد پرمشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: احل اللہ البیع وحرم الربوٰا الخ ( البقرۃ 275)
وقال اللہ تعالی ایضا: يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون (المائدة: 90)
وفی الصحیح لمسلم: حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء الخ (کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ، ح4092،ص 860،ط: مکتبۃ البشریٰ)۔
وفی الدر: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ
وفی الرد تحت(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه الخ(کتاب البیوع،فصل فی القرض، ج5، ص166،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی البدائع: (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله الخ( کتاب البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج5،ص146،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی قضایا فقہیۃ معاصرۃ: وأما حکمہا الشرعی، فکل من لہ إلمام بقواعد الشریعۃ ومصالحہا لا یشک بعد النظر فی تفاصیل ہذہ العملیۃ أنہا عملیۃ محرمۃ شرعا ومصادمۃ لعدۃ أحکام الشریعۃ الغراء أما أولا فلأنہ بیع لما لا یملکہ الاإنسان، وقد روی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ قال قلت یا رسول اللہ: إن الرجل لیأتینی فیرید منی البیع ولیس عندی ما یطلب أفأبیع منہ ثم ابتاعہ من السوق قال (لا تبع ما لیس عندک) اھـ (البحث الرابع،ج1 ص 130،ط:مکتبۃ دار العلوم کراچی)۔